سنن ابن ماجہ (جلد اوّل) — Page 108
سنن ابن ماجه جلد اول 108 مقدمة المؤلف عَنْ عَكْرِمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى بات کا فیصلہ فرماتا ہے تو فرشتے اس کے فرمان پر اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا قَضَى اللَّهُ أَمْرًا فِي عاجزی کا اظہار کرتے ہوئے اپنے پر ہلاتے ہیں گویا السَّمَاءِ ضَرَبَتِ الْمَلَائِكَةُ أَجْنِحَتَهَا چنان پر زنجیر (مارنے کی آواز ) ہے۔جب ان کے حُضْعَانًا لِقَوْلِهِ كَأَنَّهُ سِلْسِلَةٌ عَلَى صَفْوَانٍ دلوں سے گھبراہٹ دور ہو جاتی ہے تو وہ پوچھتے ہیں فَإِذَا فُرْعَ عَنْ قُلُوبِهِمْ قَالُوا مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ تمہارے رب نے کیا فرمایا؟ وہ کہتے ہیں سچ ہی کہا وہ قَالُوا الْحَقَّ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ فَيَسْمَعُها بلند اور بڑائی والا ہے۔تو اس کو سنتے ہیں چوری چھپے مُسْتَرِقُو السَّمْعِ بَعْضُهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ باتوں کو سننے والے پس (ان میں سے ایک) بات فَيَسْمَعُ الْكَلِمَةَ فَيُلْقِيهَا إِلَى مَنْ تَحْتَهُ فَرُبَّمَا سُتا ہے اور اس کو اپنے سے نیچے پہنچا دیتا ہے۔بسا أَدْرَكَهُ الشَّهَابُ قَبْلَ أَنْ يُلْقِيَهَا إِلَى الَّذِي اوقات اُس کو روشن شعلہ پالیتا ہے پہلے اس کے کہ وہ تَحْتَهُ فَيُلْقِيهَا عَلَى لِسَانِ الْكَاهن أو کاہن یا جادوگر کی زبان تک پہنچائے اور السَّاحِرٍ فَرُبَّمَا لَمْ يُدْرَكَ حَتَّى يُلْقِيها بسا اوقات وہ شہاب ) اُسے نہیں پاتا یہاں تک کہ فَيَكْذِبُ مَعَهَا مِائَةَ كَذَّبَةٍ فَتَصْدَقُ تِلْكَ وہ اس کو پہنچا دیتا ہے تو وہ اس کے ساتھ سو الْكَلِمَةُ الَّتِي سُمِعَتْ مِنَ السَّمَاءِ جھوٹ شامل کر دیتا ہے تو وہ بات جو آسمان سے سنی گئی بچ نکلتی ہے۔100 195 : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا أَبُو 195 حضرت ابو موسیٰ نے بیان کیا کہ مُعَاوِيَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ رسول اللہ ﷺ نے ہم میں کھڑے ہو کر پانچ باتیں أَبِي عُبَيْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ قَامَ فِينَا بیان فرما ئیں۔آپ نے فرمایا یقینا اللہ سوتا نہیں اور رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَمْس سونا اس کے شایانِ شان نہیں ہے۔وہ ترازو کو كَلِمَاتٍ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ لَا يَنَامُ وَلَا يَنْبَغِي لَهُ جھکا دیتا ہے اور بلند کر دیتا ہے۔اُس کے سامنے أَنْ يَنَامَ يَخْفِضُ الْقِسْطَ وَيَرْفَعُهُ يُرْفَعُ إِلَيْهِ رات کے اعمال دن کے اعمال سے قبل پیش کئے عَمَلُ اللَّيْلِ قَبْلَ عَمَل النَّهَارِ وَعَمَلُ النَّهَارَ جاتے ہیں اور دن کے اعمال رات کے اعمال سے قبل قَبْلَ عَمَلِ اللَّيْلِ حِجَابُهُ النُّورُ لَوْ كَشَفَهُ پیش کئے جاتے ہیں۔ٹور اس کا حجاب ہے۔اگر وہ 195 : اطراف ابن ماجه مقدمة المؤلف باب فيما انكرت الجهمية 196 تخریج : مسلم کتاب الايمان باب في قوله عليه السلام ان الله لا ينام في قوله حجابه نور لو كشفه لا حرقت۔۔۔255 ، 256