حکایاتِ شیریں — Page 5
८ انتساب عزیزہ نصرت خلیل کے نام جس نے وار اپریل ۱۹۸۶ء کو وفات پائی خاکسار اس کی وفات کے وقت پاس بیٹھا یہ کتاب مرتب کر رہا تھا۔ نیکی کا بدلہ ہمیں اس خدا تعالیٰ کی ہی پرستش کرنی چاہئیے جو کہ ذرہ سے کام کام کا بھی اجر دیتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ ایک قصہ بیان کیا جاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ تین آدمی بہار میں پھنس گئے تھے ۔ وہ اس طرح کہ انہوں نے پہاڑ کی غار میں ٹھگا نہ لیا تھا ۔ جبکہ ایک پتھر سامنے سے آگرا اور راستہ بند کر ا ٹھکانہ لیا تھا۔ سے راستہ بند کیا ۔ تو کام لیا ۔ تب ان تینوں نے کہا کہ اب تو نیک کام ہی بچائیں گے چنانچہ ایک نے کہا کہ ایک دفعہ میں نے مزدور لگائے تھے ۔ مزدوری کے وقت ان ایک میں نے مزدور تھے۔ مزدوری کے میں سے ایک کہیں چلا گیا۔ میں نے بہت ڈھونڈا آخر نہ ملا تو میں نے اس کی مزدوری سے ایک بکری خریدی اور اس طرح چند سال تک اس کی مزدوری سایت خریدی چند سال یک ایک بڑا گلہ ہو گیا۔ پھر وہ آیا اس نے کہا کہ میں نے ایک دفعہ آپ کی مزدوری کی تھی ۔ اگر آپ دیں تو عین مہربانی ہوگی میں نے اس کا تمام مال اس کے سپرد کر دیا ۔ اسے اللہ ! اگر تجھے میرا یہ نیک عمل پسند ہے تو میری مشکل آسان کر ۔ اتنے میں تھوڑا پتھر اونچا ہو گیا پھر دوسرے نے اپنا قصہ بیان کیا اور پھر بولا کہ اے اللہ! اگر میری یہ نیکی سمجھے پسند ہے تو میری مشکل آسان کر ۔ پتھر ذرا اور اونچا ہو گیا ۔ پھر تیسرے نے کہا کہ میری ماں بوڑھی تھی ایک رات کو اس نے