حکایاتِ شیریں — Page 6
پانی طلب کیا میں جب پانی لایا تو وہ سو چکی تھی۔ میں نے اس کو نہ اٹھایا کہ کہیں اس کو تکلیف نہ ہو۔ اور وہ پانی لیے تمام رات کھڑا رہا۔ صبح ابھی تو اسے دے دیا۔ اے اللہ ! اگر تجھے میری یہ نیکی پسند ہے تو مشکل کو دور کر ۔ پھر اس قدر پتھر اونچا ہو گیا کہ وہ سب نکل گئے اس طرح پر اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کو نیکی کا بدلہ دے دیا۔ ( ملفوظات جلد ششم صفحه ۲۶-۲۷) خدا کے مقربوں کا شیوہ - مجھے ایک حکایت یاد آئی جو سعدی نے بوستان میں لکھی ہے کہ ا آئی جو سعدی نے میں ہے کہ ایک بزرگ کو تکتے نے کاٹا گھر آیا ۔ تو گھر والوں نے دیکھا کہ اسے کتے نے کاٹ کھایا ہے ۔ ایک بھولی بھالی چھوٹی لڑکی بھی تھی ۔ وہ بولی آپ نے کیوں نہ کاٹ کھایا ۔ اس نے جواب دیا ۔ بیٹی انسان سے کہیں نہیں ہوتا کیا ہے ایک سی ای وی ای بی تی وہ بولی آپ نے کنین اس طرح سے انسان کو چاہیے کہ جب کوئی شریر گالی دے تو مومن کو لازم ہے کہ اعتراض کرے نہیں تو وہی کتین کی مثال صادق آئے گی ہے کہ کرنے نہیں تو کی خدا کے مقربوں کو بڑی بڑی گالیاں دی گئیں ۔ بہت بری طرح ستایا خدائی گیا مگر ان کو اعرضَ عَنِ الْجَاهِلِينَ کا ہی خطاب ہوا ( ملفوظات جلد اول صفحه (۱۰۳) دشمن مرے تے خوشی نہ کریئے اگر دشمن مر بھی جاوے تو کیا اور زندہ رہے تو کیا نفع و نقصان کا پہنچانا خدا تعالیٰ کے قبضہ اور اختیار میں ہے ، کوئی شخص کسی کو کوئی ند نہیں پہنچا سکتا۔ سعدی کے گلستان میں ایک حکایت لکھی ہے کہ نوشیرواں بادشاہ کے پاس کوئی شخص خوشجری لے کر گیا کہ تیرا باد قلال دشمن مارا گیا ہے اور اُس کا ملک اور قلعہ ہمارے قبضہ میں آگیا ہے ۔ نوشیرواں نے اس کا کیا اچھا جواب دیا۔ مرا بمرگ عدد جائے شادمانی نیست که زندگانی ما نیز جاودانی نیست ملفوظات جلد اول صفحه (۳۵۹) صرف انسان نیکی اختیار کر سکتا ہے انسان کی بچپن کی حالت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ گا ہ ٹم بیل وغیرہ جانور رہ ہی کی طرح انسان بھی پیدا ہوتا ہے ۔ صرف انسان کی فطرت میں ایک نیک بات یہ ہوتی ہے کہ وہ بدی کو چھوڑ کر نیکی کو اختیار کرتا ہے اور یہ صفت انسان میں ہی ہوتی ہے کیونکہ بہائم میں