دُرِّثمین اُردو

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 19 of 195

دُرِّثمین اُردو — Page 19

۱۹ جب سے یہ نور ملا نور پیمبر سے ہمیں ذات سے ؟ ذات سے حق کی وجود اپنا ملایا ہم نے مصطفیٰ پر ترا بے حد ہو سلام اور رحمت اُس سے یہ نور لیا بار خدایا ہم نے ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مُدام دل کو وہ جام لبالب ہے پلایا ہم نے اُس سے بہتر نظر آیا نہ کوئی عالم میں لازم غیروں سے دل اپنا چھڑایا ہم نے مورد قہر ہوئے آنکھ میں اغیار کے ہم جب عشق اس کا تہ دل میں بٹھایا ہم نے زعم میں اُن کے مسیحائی کا دعوی میرا افترا ہے جسے از خود ہی بنایا ہم نے کافر و ملحد و دجال ہمیں کہتے ہیں ! نام کیا کیا غم ملت میں رکھایا ہم نے گالیاں سن کے دعا دیتا ہوں ان لوگوں کو رحم ہے جوش میں اور غیظ گھٹایا ہم نے تیرے منہ کی ہی قسم میرے پیارے احمد تیری خاطر سے یہ سب با ر ا ٹھا یا ہم نے تیری الفت سے ہے معمور مرا ہر ذرہ اپنے سینہ میں یہ اک شہر بسایا ہم نے صف دشمن کو کیا ہم نے بحجت پامال سیف کا کام قلم سے ہی دکھایا ہم نے نور دکھلا کے ترا سب کو کیا ملزم و خوار سب کا دل آتش سوزاں میں جلایا ہم نے نقش هستی تری اُلفت سے مٹایا ہم نے اپنا ہر ذرہ تری راہ میں اُڑایا ہم نے تیرا مے خانہ جو اک مربع عالم دیکھا تخم کا خم منہ سے بصد حرص لگایا ہم نے شان حق تیرے شمائل میں نظر آتی ہے تیرے پانے سے ہی اُس ذات کو پایا ہم نے