دُرِّثمین اُردو — Page 20
۲۰ چھو کے دامن تر ا ہر دام سے ملتی ہے نجات لاجرم در پہ ترے سر کو جھکایا ہم نے دلبرا ! مجھ کو قسم ہے تری یکتائی کی آپ کو تیری محبت میں بھلایا ہم نے بخدا دل سے مرے مٹ گئے سب غیروں کے نقش جب سے دل میں یہ تیرا نقش جمایا ہم نے دیکھ کر تجھ کو عجب نور کا جلوہ دیکھا نور سے تیرے شیاطیں کو جلایا ہم نے ہم ہوئے خیر ام تجھ سے ہی اے خیر رسل تیرے بڑھنے سے قدم آگے بڑھایا ہم نے آدمی زاد تو کیا چیز فرشتے بھی تمام مدح میں تیری وہ گاتے ہیں جو گا یا ہم نے قوم کے ظلم سے تنگ آ کے مرے پیارے آج شور محشر ترے کوچہ میں مچایا ہم نے 000 آئینہ کمالات اسلام صفحہ ۲۲۴ مطبوعہ ۱۸۹۳ء