دُرِّثمین اُردو — Page 18
۱۸ اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق ہر طرف فکر کو دوڑا کے تھکایا ہم نے کوئی دیں دینِ محمدؐ سا نہ پایا ہم نے کوئی مذہب نہیں ایسا کہ نشاں دکھلائے یہ ثمر باغ محمد سے ہی کھایا ہم نے ہم نے اسلام کو خود تجربہ کر کے دیکھا نور ہے نور اُٹھو دیکھو سنایا ہم نے اور دینوں کو جو دیکھا تو کہیں نور نہ تھا کوئی دکھلائے اگر حق کو چھپایا ہم نے تھک گئے ہم تو انہی باتوں کو کہتے کہتے ہر طرف دعوتوں کا تیر چلایا ہم نے آزمائش کے لئے کوئی نہ آیا ہر چند ہر مخالف کو مقابل پر بلایا ہم نے یونہی غفلت کے لحافوں میں پڑے سوتے ہیں وہ نہیں جاگتے سو بار جگایا ہم نے جل رہے ہیں یہ بھی بغضوں میں اور کینوں میں باز آتے نہیں ہر چند ہٹایا ہم نے آؤ لوگو! کہ یہیں نورِ خدا پاؤ گے!! لو تمہیں طور تسلی کا بتایا ہم نے آج ان نوروں کا اک زور ہے اِس عاجز میں دل کو ان نوروں کا ہر رنگ دلایا ہم نے