دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 96
१५ ا همه ی دوست کامل ذات علم ما چون شود چو او هیهات ہم سب بے حقیقت ہیں اور وہی کامل وجود ہے اسوس ہمارا علم اس کے علم کی طرح کیونکر ہو سکتا ہے راعظم ہو قات بچوں که نام اوست خدا کے خیال خود رسد آنجا وہ بے مثل ذات میں کا نام خدا ہے اُس تک عقل کا خیال کیونکر پہنچ سکتا ہے۔ اینکه او آمد دست از بریار او رساند یه داستان اسرار وہ جو خدا کے پاس سے آتا ہے وہی اس داستاں کے راز لوگوں کو پہنچانا ہے آنچه مافی الضمیر تست نہاں کے چو تو داندیش دگر انسان جوہات تیرے دل میں پوشیدہ ہے اُسے دوسرا انسان شیدہ ہے اُسے دوسرا انسان تیری طرح کیونکر جان سکتا پس تو مافی الضمیر آن دادار مثل او چون بدانی اسے مدار ہے پھر تو اس بات کو جو خدا کے خیال میں ہے اسے بے وفا کیونکر اس کی طرح جان سکتا ہے۔ اینکه چشم آفرید نور و بر آنکه دل داد او سرور دوم میں نے آنکھ پیا کی ہی تو بخشتا ہے جس نے دل دیا وہی مشہور عنایت کرنا چشم ظاہر بیس که چون نه کرم خالقش داد نیر اعظم ظاہری آنکھ کو دیکھ کہ کس طرح اپنی مہربانی سے خالق نے اُس کرتا ہے اُس کو آفتاب عطا کیا۔ اور برائے مصالح دوران گاه پیدا نمود و گاہ نہاں اور زمانے کی بھلائی کے لیے کبھی اُس آفتاب کو ظاہر کیا اور کبھی پوشیدہ کر دیا این جنہیں است حال چشم دروں آفتابش کلام آں بے چوں میسی حال باطنی آنکھ کا ہے ۔ اس کا آفتاب اس بے نظیر خدا کا کلام ہے