دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 97
१८ برش دارا بشر که عقل بشر دارد اندر نظر ہزار خطر اس انسان جوش کی کہ انسانی عقل کی بینائی میں ہزاروں خطرات ہیں کشیدن طریق شیطانی است بر خلاف سرشت انسانی است سرکشی شیطانی کا طریقہ ہے ۔ اور انسانی فطرت کے برخلاف ہے تا نه فعلش رو تو بخشاید صد فضولی بین چه کار آید جب کہ میں کا فضل تیری راہ کو نہ ھو لے تو کتنی ہی بے فائدہ کوششیں کرنے سب بے کار ہیں اور سر اگر چہ جائے استنباط شترے ہوں خود بیستم بیاط ھیک مانوں میں تھی اس کی گھنائیں نہیں اونٹ سوئی کے ناکے ہیں کیونکر گھس سکتا ہے تو نہ با خبر ناں کوئے!! تو نہ دانی جمال آل روئے تو اس کوچہ سے بے خبر ہے تو اس چھرے کے حسن کو نہیں جانتا خبر سے دو بردماں پھر دہی ماہ تا دیده را نشاں چہ دہی وں کے معیاروں کو کیا رہا ہے اس بل کو کرانے کا نہیں اس کا نشان کیا جاتا ہے سخن یار و سینه افسرده جامه زنده است بر مرده دوست کی باتیں کرتا اور سینہ بجھا ہوا یہ تو ایسی بات ہے جیسے مردہ پر زندہ کا لباس مموری بیگ را بزرگ و باند جنبش باد خواهدش انند خواہ ریت کو تو کتنی ہی اونچی جگہ لے جاتے ہوا کی فورا سی حرکت اُسے وہاں سے گرادے گی بست مارا سکے کہ ہر فیضان مے شود زمان محافظ تن و جاں ونال محافظ و ہمارا ایک خدا ہے کہ ہر قیتانی ہو اس کی طرف سے ہے ہمارے جان و تن کا محافظ ہوتا ہے ن یعنی ریت کی عمارت *