دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 95
۹۵ یں اسد عمر کس بود تمام شورش عشق را رسد هنگام جو کسی کا انکار پورسے کمال تک پہنچ جاتا ہے اس وقت عشق کی شورش کا وقت آپہنچتا ہے ہے اس وقت وقت ہے یک چشمت کبر پوشیده چه کنم تا کتابیات دیده سے وہ شخص کہ میری اکھ ترکی نے پردہ ڈال رکھا ہے میں کیا کروں کہ تیری آنکھ کھل جائے ن کا گر تر اور دل است صدق طلب خو درد بها من نه ترک ادب اگر تیرے دل میں سچی طلب ہے تو بے ادبی سے خود روی نہ رانه راه خدا بجو نہ خدا تو نہ بچوں محمد بجائے خود آ قدار کے راستے کا بھید خدا سے ہی طلب کر جب تو خدا نہیں ہے تو اپنی جگہ پہ آجا بندگانیم بنده را باید که کند هر چه خواجه فرماید ہم تو اور بندہ کو مناسب ہے کہ جو کچھ جو کچھ آقا فرمائے وہ کرے تو بندے ہیں اور بندہ کو منہ منتصب بنده نیست خود رانی خود نشستن بکار فرمائی بندہ کا منصب خود را ئی کرنا تھیں اور نہ آپ ہی حکومت کرنے بیٹھ جانا ہے برکه برونی حکم مشغول است در سراحت است و قبول است و شخص حکم پورا کرنے میں مصروف ہے ہی۔ ہے اسی کو مزدوری ملے گی اور وہی مقبول ہے جو شاہرہ و انکہ بے حکم خود ترا شد کار مرد واجب نمی شود نه نهار م اور شخص جو شخص غیر حکم کے خود سے کام کرتا ہے اس کی مزدوری کبھی واجب نہیں ہوتی انی یم او نهاده بخاک خود چه دانیم باز حضرت پاک ہم توضیف ہیں اور خاک پرگرے ہوئے ہم تو خدائے قدوس کا راز کس طرح جان سکتے ہیں