دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 94
* ۹۴۷۰ کرد دنوں سرت به نیاز پرده از نفس تو نگردد باز جب تک نیاز کے ساتھ تیرا سر نیچانہ ہو گا تب تک تیرے نفس کے حجاب دور نہ ہوں گے یک نیاز کے نانه ریز د نرا همه پر و بال اند این جا پر بدن است محال | جب تک تیرے سائے پرو بال نہ جھڑ جائیں گے جب تک اس جگہ پرداز کرنا نا ممکن ہے ناتوانی است مدت اینجا این چنیں ہوتے بیار و بیا تا توانی اس جگہ کی طاقت ہے ۔ پیس ایسی قوت پیدا کر اور آجا برنده نیست بر نرخ دلدار تو نه خود پرده خودی بر داره والعالم کے منہ پر کوئی نقاب نہیں تو اپنے اوپر سے انانیت کا پردہ اُٹھا دے رکیه را دولت اول شد یار کار او شد تذل احمد کار اری خوش قستی میں شخص کی سردار ہو جاتی ہے تو اس کاکام اپنے مال میں خاکساری ہو جا ہے آن در آمد یہ حضرت بے چوں کہ شد از تنگنائے کہر ہیروں وہی شخص بے شک خدا کی حضوری میں آجاتا ہے جو نمبر کے تنگ کو چہ سے باہر نکل جاتا ہے نی شناسی زه خود روی ناید خود روی خود روی بیفزاید خودروی سے تھی شناسی حاصل نہیں ہوتی بلکہ خودروی تو خودردی کو ہی زیادہ کرتی ہے از خودی حال خود خراب کی شب پری کار آفتاب کن خودی سے اپنا حال تباہ نہ کر تھو تو چمگادڑ ہے۔ آفتاب کا کام اختیار نہ کر تا بشر محمد بود با تشکبار اندرونش تهی بود از یار | جب تک بشر تکبیر سے بھرا ہوتا ہے اس کا دل یار سے خالی ہوتا ہے