دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 52
۵۲ ا چون نزا جیران گذارد در معاد | اسے عجب تو عاقل و این اعتقاد جھ کو موت کے معافی کیوں پریشان چوڑ سے تعجب ہے کہ عقلمند ہوکر تو یہ اعتقاد رکھتا ہے ای درشت دادہ اندر سے بے خیرا ایپس چرا پوشی کے وقت نظرا سے ہے خبر جب تجھے دور آنکھیں دی گئی ہیں پھر دیکھنے کے وقت ایک کو کیوں بند کر لیتا ہے آنکه زد بر قدر نے گی یہاں قدرت گفتار ہوں ہاندے نہاں رہ ذات جس سے ہر قسم کی قدرت ظاہر ہوئی۔ ڈارنے کی قوت کس طرح مخفی رہ سکتی تھی آنکه شد هر وصف پاکش جلوہ گر پس چرا این وصف اندے مستر وہ ہستی جس کی ہر ناک صفت ظاہر ہوگئی پھر اس کی یہ صفت کیونکر چھٹی رہ سکتی تھی ر که در غافل بود از یاد دوست | چاره ساز غلتش پیغام ها دست شخص جو خدا کی یاد سے غافل ہو۔ تو خدا کا پیغام ہی اس کی فغفلت کا چارہ سازہ ہوتا ہے تو عجب داری نه پیغام خدا این چه عقل و فکر نیست اسے سے خود نما نما تو خدا کے پیغام پر تعجب کرتا ہے۔ اسے منکر یہ تیری عقل اور سمجھ کیسی ہے الطلع اور چوں خاکیاں دا عشق داد انتقال را چو بینگن سے زیاد اس کی مہربانی نے جب مٹی کے پہلے کو عشق بخشا تو وہ اپنے عاشقوں کو کیو نکر بھلا سکتا عشق پول بخشید از لطلب اتم ہوں نہ بخشید سے دوالے اس المر جب کامل مہربانی سے اس نے محبت دی ۔ تو پھر کیوں اس درد کی دوا نہ بخشتا خود و گره از مشق خود اسم کتاب یوں نہ کر دے از سر رحمت خطاب یں اس نے اپنے مشن سے بدلہ سے دوں کو کہا کردیا تو بھی رحمت کے ساتھ ہم سے کلام کیوں شکریا