دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 51
۵۱ ہاں بہتر که آن علم یاری با بودیم های علمیه ما داریم صد سود خط دارد ی بات ہے کہ ان کے علم کو اس ہی سیکھیں کی کہ علم الہ سے پاس ہے اس میں سینکڑوں غلطیاں ہیں که گرید بهتر از تولش گراد خاموش بنشیند که گیر دوست اس تار بهتر از را که گیر دو دوست اسے نادان گراد دست تو بگذارد اگر خدا خاموش رہے تواس سے بھر رات کون کر سکتاہے اگروہ تجھے چھوڑ دے تو پھر کون تیری دستگیری کر سکتا ہے۔ برو قدرش ہیں اورمحبت بے اصل در در کیش که این جست که می آری بلا با بر سرت آرد جامد اس کی قدر پہچانی اور حجت بازی کو چھوڑ دے کیو نکہ جو یا تو میں کرتا ہے وہ تیرے سر مصیبتیں لائے گی د بر این احمد به حصہ سوم حاشیه صفحه ۱۶۱ اسطوره ۱۶۱۸۸۲ ماجت زوری بود سر چشم را این چنین افتاد قانون محمد ہر آنکھ کو روشنی کی ضرورت ہے خدا کا قانون ایسا ہی ہے یم بنتا ہے خو تاباں کہ دید کے میں چیتے خداوند آفرید بغیر سورج دیکھنے والی آنکھ کس نے دیکھیں ؟ خدا نے ایسی آنکھ کب بنائی؟ چوں تو خود قانون قدرت بشکنی پس چرا بر دیگران سرے زنی جب تو خود ہی قانون قدرت کو تاڑتا ہے ۔ تو پھر تو دوسروں پر کیوں اعتراض کرتا ہے ؟ ینکه در هر کار شد حاجت روا چون رواداری که نبود رہنما عد میں نے انسان کی ہر ضرورت کو پورا کیا گیا وہ مذہب کے بارے میں تیری رہنمائی نہ کرتا؟ آنکه اسب دگار خود را آفرید تار ید پشت تو از باد شدید سے کو پیدا کیا۔ تا کہ تیری پیٹھ کو سخت بوجھ سے نجات دے