دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 39 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 39

دولت عمر دم بدم بزوال | اتو پریشان بفکر دولت و مال | مردم عمر کی دولت ہر گھڑی گھاٹے میں ہے لیکن تو مال و دولت کی فکر میں پریشاں ہے خویش و قوم و قبیلہ مہر نہ دیا تو بریدہ برا کے نشاں نہ خدا رشتہ دار قوم اور کوہ سب دھو کے باز ہی لیکن تو نے اُن کی خاطر خدا سے تعلق توڑ رکھا ہے این همه را بشتنت آهنگ اگه بمصلحت کشند و گاه جنگ | اور کبھی لڑ کر ان سب کا ارادہ تیرے قتل کرنے کا ہے کبھی تو یہ صلح سے مارتے ہیں اور کیا خاک بر رشته که پیوندت بگسلاند زیار دل بندت | اس رشتہ پر لعنت ہے جو تیرے پیوند کو تیر سے دلی دوست سے تڑکا وائے بست آنچه آں خدا کارت نہ تو یار کسے نہ کسی یارت | آخر ایسی خدا سے تجھے کام پڑے گا ورنہ نہ تو تو کسی کا یا رہے اور نہ کوئی تیرا یار ہے قدم خود بند بخوت اتم تا روی از جهال بصدق قدم اپنا قدم نہایت خوت کے ساتھ رکھ تاکہ تو اس دنیا سے صدق قدیم کے ساتھ جائے تا خدارات محب خود سازد انظر لطف پر تو اندازند ملا کہ خدا مجھے اپنا دوست بنائے اور مجھ پر مہربانی کی نظر ڈالے باده نوشی ز عشق و نهال باده است باشی و بیخود افتاده اور تو عشق کی شراب ہے اور اس شراب سے مست اور مدہوش پڑا رہے نیست ایں جائے کہ مقام مدام | ہوش کن تا نه پر شود انجام | یہ جگہ ہمیشہ رہنے کا مقام نہیں ہے۔ خبردار ہو جا تا خاتمہ کیا نہ ہو