دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 40
امیر اک نه مده نورت افزاید | مهر این مردگان چه کار آیدا اس زندہ کی محبت تیرے نور کو بڑھائے گی۔ ان مردوں کی محبت بھلا کس کام آئے گی القمر و معده و سر و دستار سر بر بست بخشش دادار | کھاتا۔ معدہ سر اور دستار سب کی سب خدا کی بخششیں ہیں ! اختی باری شناس و شرم ماه پیش زابل که جهان به بندی بار خالق کا حق پہچان اور شرم کہ اس سے پہلے کہ تو دنیا سے رخصت ہو اسد از رو از چه رو بگهانی سگ وفا می کند تو انسائی کیوں تو اس سے منہ پھیرتا ہے ۔ کتا بھی وفا کرتا ہے تو تو آدمی ہے ترس باید اور قادر ہے اکبر ہر کہ عارف تریست تر سال ترا قامت والے خدائے برتری سے تو چاہیئے۔ جو زیادہ خدا شناس ہے وہی زیادہ ڈرتا ہے فاشتغال در سیاه کاری اند عارفان در دعا و زاری اندا کار لوگ بڑے کاموں میں مشغول ہیں عارف لوگ دعا اور زاری میں مصروف ہیں اسے خنک دیدہ کہ گریانش اسے ہمایوں دے کہ ہر پانش ٹھنڈی رہے وہ آنکھ جو اُس کے لیے روتی ہے مبارک ہے وہ دل جو اس کے لیے جلتا ہے الے مبارک کے کر طالب اوست فارغ از محمد زید بارش دوست بابرکت ہے وہ ہوا اس کا طالب ہے۔ اور عمرو زیلہ کے خیال سے الگ ہو کر اس کے حضور میں رہتا ہے۔ اهر که گیردورہ خدائے یگاں ! | آن خدایش بیس است در دو جہاں جو بھی خدا کے واحد کا راستہ اختیار کریگا اس کے لیے خدا تعالی دونوں بہانوں میں کافی ہے