دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 38 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 38

۳۸ یست کارت همه بال یکیذات | چون صبوری گلی از دو هیات یر اسمارا واسطہ تو اسی ایک قوات سے ہے انسو میں ہے کہ پھر اس کے پیر کو کر کے ہر آتا ہے ایخت گرد و پر زد بگردی باز دولت آید و آمدن به نیاندا ی تو اس سے برگشتہ ہوتا ہے تو تیری قسمت خراب ہوتی ہے اور جو کے ساتھ ایس حضور آنے سے روایت کی ہے چوں بہتری نہیں ہیں بارے | یوں بریں اہلی کئی کا رے کین طراح خود ایسے دوست سے تعلق قطع کر سکتا ہے اور کس طرح ایسی ہیو ترقی کا کام کر سکتا ہے این جهان است مثل مردارے اچھال سکے ہر طرف طلب گار ہے یے دنیا تو مردار کی طرح ہے اور اس کے طلب گار کتوں کی طرح اُسے چھٹے ہوئے ہیں اخت آن مرد کو انہیں مردار روئے آروائیوں کے ہاں وادار | وہ شخص خوش قسمت ہے جو اس مردار سے بچ کر اپنا منہ خدا کی طرف پھیرتا ہے۔ چشم بند و زه غیر و داد دید اور سیریایہ سر بیاد و 14 غیر کی طرف سے انھیں بند کر لیتا ہے اور انصاف کرتا ہے اور دوست کے خالی ہیں پیاس قربان کردیتا ہے این همه خوش حرص و آز و بها بست تا بست مرد نابینا حرص لالچ اور طمع کا یہ سب طوفانی اسی وقت تک ہے جب تک کہ آدمی اندھا ہے چشم دل اند کے پور گردو بازه | | سرو گردد به آدمی همه آنها لیکن جب دل کی کہ تھوڑی سی بھی کھل جائے تو آدمی کی تمام حرص ٹھنڈی پڑ جاتی ہے۔ ایسے میں جائے آز کردہ دراز ہیں ہوس با چرا نیائی نیاتی باند کر تھا اہئے وہ کہ میں نے لاٹھی کی ریسیاں نہیں کر رکھی ہیں کیوں تو ان ہوس پرستیوں سے باز نہیں ہیں