دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 371
4 بشنو از وضع عالم گذران چون کند از زبان حال بیان از عالم اس جہانی نانی کی حالت پر کان رکھ رکس طرح وہ نہ بان حال سے بیان فانی کی که یه موتها ارده کر رہا ہے کیں جہاں با کسے وفا نہ کند نه کند صبرتا مجدا نہ کند ونیا کسی سے وفا نہیں کرتی اور صبر نہیں کرتی جب میں اسے اپنے سے بعد انہیں کر لیتیں گه بود گرش بشنوی صد آه از دل مرده درون تباه اگر تیرے کان ہوں تو سوا ہم میں سے خود اپنے مردہ اور تباہ حال دل سے که چرا رو بیافتم به خدا دل نهادم در آنچه گشت جدا کہ میں نے خدا سے کیوں منہ پھیرا اور ایسی چیز سے کیوں دل لگایا جو ملا ہوگئی ہمچناں سامنے ترا در پیش گور آواز با دید چون خویش اسی طرح مجھے بھی ایک ایسی گھڑی پیش آنے والی ہے۔ قبر سمجھے اپنے عزیزوں کی طرح بجا رہی ہے۔ یادگن وقت کوری و ترک جہاں جاں بلب خانہ پر ز شور دفعال کوچ کے وقت اور دنیا کے چھوڑنے کی گھڑی کو یاد کیا کہ تو جان طلب ہو گا اور گھریں آہ و فعال کا شور برپا ہوگا دن بنالد بدیدہ خون بار پسرے گرین ان پیس دیوار میری بیوی خون کے آنسوؤں سے روتی ہوگی اور بیٹا دیوار کے پیچھے گریہ و نداری کر نا ہو گا دخترے سر پہد اشک روال همه خویشان شده تن بیجال لڑکی ننگے سر ہنسو بہاتی ہوگی۔ اور اور سب رشتہ دار مرود کی مانند ہوں گے ناگهان بانگ آمد از سر درد کہ فلاں نہیں سرائے رحلت کرد کہ یکدم یہ درد ناک آواز آئے گی کہ فلاں شخص ہیں دنیا سے گذر گیا