دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 370 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 370

نور تابال چوهر و پیشانی پر همه رو ز عشق ربانی کواس کی پیشانی سے چاند کی طرح نور چمکتا ہے اور عشق الہی سے سارا چہرہ روشن ہو جاتا ہے عشقی اس بار مدها گشته دل از غیر خدا جدا گشته اس دوست کا عشق اس کا مدعا بن گیا ہے ہے اور غیر اللہ سے اس کا دل جدا ہو گیا الطف أو ترك الاقبال نکند کس بکار رهش زیان میکند قدار کا لطف ہمیشہ اپنے طالبوں کے شامل حال رہتا ہے اس کی راہ میں کوئی نقصان نہیں اٹھاتا جدا ہو لیا ہے۔ هر که آس در گرفت کارش شد صدا امید سے بروز گارش شد۔ جس نے دو دوران اختیار کرلیا اس کام بن گیا اور اس کے کما بارکی کامیابی پر پیٹرول میں بندھ گئیں H مثل اس داستان کجا دیدی پس چرا هجر او پسندیدی تو نے اس محبوب کی طرح کا کوئی اور محبوب کہاں دیکھا ہے پھر کیوں اُس کی چدائی کو پسند کر لیا : دیکھا ہے پھر که تو زود تر ره گیری این نباشد که پیش از ا میری بہتر ہے کہ فوراً تو اس کا راستہ اختیار کرے ۔ ایسا نہ ہو کہ اس سے پہلے ہی مرجائے معمر اول بین کجا رفته است رفت و نگرز تو چهار رفت است۔ اپنی پہلی عمر کو دیکھ کہ کدھر چلی گئی ۔ وہ قرضا رو ہوگئی اگر دیکر تیرے پاس سے کہا کہ ہو گیا پاره عمر رفت در خودی پاره را برکشی بردی عمر کا ایک حصہ تو بھی میں پڑا گیا۔ اور ایک حقہ عمر کا تو نے سرکشی میں گذارا تازه رفت و بماند پس خورده دشمنان شاد و یار آزرده چھا حصہ تو گیا۔ اب بچا کھچا رہ گیا ہے ۔ ای من نوش ہیں اور دوست ناراض