دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 332
نابی یار دور کمند انداخت که نداند بدیگر سے پرداخت یار نے ایں طرح سے اپنی کھند میں لے لیا ۔ کہ وہ دوسروں سے کوئی واسطہ ہی نہیں رکھتا۔ قدیم خود زده بر او هم گم پیادش از فرق تا بقدم خا کے راستے پر چل پڑا اور اس کی یاد میں سر سے پیر تک گم ہو گیا ذکر دلبر خزانے او گشتہ ہمہ دلیر برائے اور گشته اور وبر کا ذکر اس کی غذا ہو گیا بلکہ سایہ اور اس کے لیے ہوا گیا سوخته بر فرض مجر ولدار دوخته چشمبر دل ز غیر نگار اُس نے سوائے دلدار کے اپنی ہر خواہش کو جلا دیا اور مجیب کے سوا ہر چیز کی طرف سے آنکھ بند کر لی دل و جاں پر رھے فدا کرده وصل او اصل مدعا کرده اس کے چہرہ پر جان و دل فدا کر دیا اور اس کے وصل کو اپنا خاص مدینا بنا لیا مرده و خویشتن فنا کرده عشق بوشید و کارها کرده وہ مر گیا اور اس نے اپنے لیں فنا کر دیا۔ عشق جوش میں آیا اور اس نے سب کام کر دی ہے۔ از خودی ہائے خود فتاد جدا میل پر دور بود محمد انه جا اپنی خودی سے الگ ہو گیا ۔ سیلاب بہت زور کا تھا اُسے بہا کر لے گیا تن پر فرسوه دل منتان آمد دل چه از دست رفت جان آمد جب بدن کمزور ہو گیا تو محبوب آگیا جب دل ہاتھ سے چلا گیا تو محجوب تشریف لے کیا عشق دلیر ہوگئے اور بارید ابر رحمت کو نئے اُو بارید مجوب کا لشق اس کے پھر سے ظاہر ہونے لگا اور اہرہ رحمت اس کے کوچہ میں برسنے لگا