دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 286
میں ہو ہم دل و جان سے اپنے خدا کی تعریف کرتا ہوں میں وہ نہیں ہوں کہ اپنے کام سے فضلات کھیں ۔ رزمین پر طاری ہوس ہے جو شد که بر بہت متان نگار خود بخرم ہروقت میرے دل میں یہ شوق جوش مارتا ہے کہ جو کچھ بھی میرے پاس ہے وہ اپنے محبوب پر قربان کر دہلوی ار و باحال پوشاک گردیدم دارند که نداین غبار خود بخر اگر چہ میں جوب کی راہ میں خاک کی طرح ہو گیا ہوں مگر میرا دل کڑھتا ہے کہ اپنا تھا بھی اس پر فدا کر دوں کی دلدادگال کشاں یا معمر جہان کو چہ میرے قرار خود بکنر با کو چہ میں عاشقوں کے گلشن میں جاتا ہوں اس بالغ کو چھوڑ کر میں کسی غیر کے کوچہ میں کیوں اپنا مسکن بنادیں رسید مژده که ایام نوسانه آمد زمانه را خبر از برگ و بایه خود کنیم مجھے خوشخبری ملی ہے کہ پھر موسم ہار گیا تا کہ زمانہ کریں اپنے پھلوں اور پتوں کی خیر کر دوں اور اپنے محبوب کے تھا۔ ه و آرام خویش نمایم بجائے اور سعادت شکار خود بکنم تعلقات کا اظہار کروں اور ہمائے اوج سعادت کو اپنا شکار بنا ہیں، گوش جان و روان اسے منکر من این گواه بدی کردگار خود بکنم ے میرے کر ہوش سے یہ میری بات سن ۔ کہ میں اس پر اپنے خدا کو گواہ کرتا ہوں ر تفرز باد باشی پروانه وگرنه گریه بر همه بار خود کنم تفرقه پردازی کے ارادہ سے باز آ اور صلح کر لے اور جو میں اپنے خدا کے سامنے آہ و زاری کروں گا و ارت و نان خران با هم ساخت اگر در چشم، و الی آبشار خود کنم میاں کی حمایت کو برا کر کے رکھ ھوں گا اگرمیں اپنی آنکھوں سے دانوں کی ایک چشمہ جاری کر دوں +