دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 285
۲۸۵ نیست شورا بر لیت اخت تا بر تو فیضان نے رسید جان پیشان تا دیگر جانے رسد انی بستی کو فنا کردے تا کہ تجھ پر فیضان الہی نازل ہو جان قربان کر تا کہ مجھے دوسری زندگی ملے تو گذاری عمر خود در کمر و کیں چشم بسته از ره صدق دیتیں ررہی ہے کو تو اپنی عمر کبیر اور کینہ میں بسر کر رہا ہے اور صدق ویقین کے راستہ سے آنکھ بند کر رکھیں۔ نیک دل بایگوان دارد سرے یہ گرت سے زندہ بد گوہرے نیک دل انسان نیکوں کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔ رکھتا ہے۔ مگر بد اصل آدمی موتی پڑھی تھوکتا ہے ہر اس آدمی مولی بست وین تخم خارا کا شتن و ز مهر بستی قدم بر داشتن دین کیا ہے۔ نا کا بیج ہونا اور زندگی کو ترک کر دینا چوں بیتی با دو صد در دو نغیر کسی ہے خیز که گرد دو نگیر بے که و جب تو سینکڑوں درودوں اور یوں کے ساتھ کر پڑتا ہے پھر اور کوئی کھڑا ہو جاتا ہے کہ تیرا درکار ہو جائے با خبر را دل تیر پر بے خبر رحم بر کورے کنند اہل بصر ن دہانی کے لیے دانا آدمی کا دل تڑپتا ہے اور آنکھوں والے اند ھی پر ضرور رحم کرتے ہیں۔ همچنین قانون قدرت اوفتاد مرضعیفان را قوی آرد بیاو اسی طرح کانون الہی بھی واقع ہوا ہے کہ قوی کمزوروں کو ضرور یاد کرتا ہے تذكرة الشهادتين صفحه ۸ ۵ تا ۶۰ مطبوعه ۶۱۹۰۳ الها في مصارع خوش باش که عاقبت موتی بر ماود خوش ہو جا کہ انجام اچھا والید به او گمبر ۱۶۱۹۰۳