دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 287 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 287

PAKY میں آ ہر وقت ایک رستہ پر بیٹھے ہوں کہ اپنے خدا کے حضور اپنی التجا پیش کروں ے یا کہ از برام می سوزدم گرایش جو دل ریش و این دو محکم خدا کی قسم میں اپنی قوم کی خیر خواہی میں تیرا ہوں تا کہ تم کے دل کی اپنے یا نالاں دل کی طرح کوتا را حکم امور چوری ۱۹۹۴ ۶) الها في مصرع اے بسا خانہ دشمن که تو ویران کردی بہت سے دشمنوں کے گھر ہیں ہو تو نے برباد کر دیئے ہیں را لیدر بود و پریل ۲۱۹۰۷) ے محبت جب آنا نمایان کرد و در همه یا تو کمال کر دی اپنے مست تو نے عجیب رنگ دکھائے تو نے یار کی راہ میں ریم زینی اور مریم ملا کر دیتے دو ران و پریشان کردی بهره عشاق تو سرگشته و حیران کردی و دونوں جہان کے مجموعہ کو تو نے پراگندہ کر دیا اور سب کا شقوں کو تو نے ویرانہ اور حیران کر دیا رات ایک بار کئی ہوں تو قید سے ایسا خاکہ توہوں متقابل کر دیں ایک تھیلی سے تو دتہ کو سورج بنادیتی ہے اور بہت دفعہ ہماری طرح کی خاک کو تو نے چکھتا ہوا چاند بنا دیا انجاز مودی که یک طلبه فیض در رفتن بادی آمان آسان کردی ده واہ داتو وا تو نے کیسا محمودہ دکھایا کہ فیضان کی ایک مچھلی سے بہانے کا دروازہ بند کر دیا اور آنا آسان کر دیا :