دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 163
۱۶۴ ے منکرم پیام سروش جوائے حتی زمین خط میں کہ خط در تو بگرم ہیں ہے اسے وہ بو فرشتہ کے پیام اور خدا کی آدانہ کا منکر ہے ۔ منکر شکر ہے۔ غلطی مجھ میں نہیںبلکہ مجھ میں جانم گداخت از نیما انت اے وی این طرف ترکه من به گان تو کافرم اسے عربی میری جان تیرے ایان کے غم میں گھل گھی گر مجیب بات یہ ہے کہ تیرے خیال میں میں کافر مول خوابی که نوشت شو د احوال است با روشن دل خواه از ان ذات خود الکرم اگر تو چاہتا ہے کہ ہماری سچائی کی حقیقت تجھ پر داشتہ ہو جائے تو کسی مہربان ذات سے دل کی دوستی انگ روکتا گوش دلته بجانب ها من جانب تکفیر کس کجاست من میت کا ہائے عنایات و ی ایمان کی کوکا بنانے کی مرتکب ہے ہیں تو اپنے جوب کی عنایتوں کے جام سے سرشار ہوں ار این دشمنان خبرے پول شود مرا کاندر خیال دوست خواب خوش اہرم شمنوں کے مکھن کا مجھ پر کیا اثر ہو سکتا ہے۔ ہیں تو دوست کے تصور میں ہوتی ہوں بات دارم من میریم وحی الان که این است انجام است جهان نفس روح پر دردم میں تو میں خدا کی وہی کے سہارے پیتا ہوں میرے ساتھ ہے اس کا امام میرے لیے زندگی میں سانس کی طرح من رخت برده ام عمارات بار خویش دیگر خبر مپرس این تیره کشور متورم میں نے تو اپنے دوست کے گھر میں ڈیر ڈال دیا ہے لیں تو اس اندھیر سے جہان کے متعلق مجھ سے کچھ نہ توحید شقش بار بود دل من دول شده است مترش شاداست در ره دین مهرا نورم پوچھ اس کا مشق میر ے عمل کے لگے ریشمیں داخل ہو گیا ہے اور اس کی میت را میدین میں میرے لیے چکنا ہو اسکا جو ہو گئی ہے ار محبت من و و فاش گرشد سے ساتون کے جاں فشاف بریں عورم اگرمیر ی اور اس کی با ت کا ا ظاہر ہو جاتا۔ تربیت کی خلقت میرے دروازہ پر اپنی جانیں قربان کردیتی