دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 164 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 164

بنائے روز گار ندانند از من من دور خود نهفته از چشمان شترم دنیام روگ میرے بھید کو نہیں جانتے ہیں نے اپنے نور کو چھ گاڑوں کی آنکھوں سے چھپا رکھا ہے۔ بازم بر سینه بند این نیست قسمت آنکه در نظرش هیچ محترم میری راہ چھوڑ کر جو راہ بھی دو پسند کریں دو کچھ نہیں وہ شخص بد قسمت ہے تحریری کو عزت دیتا ہے بوطه می خوریم ز جام سال دوست ہر دم نہیں یار علی رغم رحمہ منکرم ہم تو ہر گھڑی دوست کے میل کا جام کہتے ہیں اے میں سر ہم اپنے منکر کے خلاف اپنے یار کا ہم محبت ہوں یاد بهشت بر دل پر سوز من وزد صدایت لطیف دور دود محرم ت کو ہی میرے روزول پاتی یا امیری امی کا ایک تم کیا اور میں پیدا کیا ہے بی سے حاصلال زر المنیان به من من هر زمان از نافه یادش معطرم ما ستوں کی بدبو مجھے نقصان نہیں پہنچا سکتی کیونکہ میں اس وقت یاد خدا کے ناف سے معطر رہتا ہوں کام نہ قرب یار بجائے سیده است کانجاز فهم و دانش اینار اینبار بر ترم یار کے قرب کی جب سے میرا سال اس لنک پہنچ گیا ہے ک میں غیروں کی کل تیم سے بہت بالاتر ہوگیا ہوں معاملہ بایر لطف یار به بنت خریده است و از فضل آل حبیب پوست سالوم میرا قدم یار کی مہربانی سے جنت میں منتقل ہو گیا ہے اور اس دوست کی حمایت سے میرے ہاتھ میں جام اصیل ہے جوش بهائیش که بوقت دعا بود انان گونه ز این شنیده است مادرم اس کی قبولیت کا ہوش جو میری دعا کے وقت ظاہر ہوتا ہے۔ اتنی گریہ و زاری میری پر وزاری میری ماں نے بھی نہیں مٹی نے بر سوی و ہر رات شرح آن یار بنگرم آن دیگر سے کجاست که آید بخاطرم میں طرف اور ہر جانب اس بار کا چہرہ دیکھتا ہوں ۔ پھر اور کون ہے جو میرے کون ہے جو میرے خیال میں آئے