دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 162
۱۶۲ امورم در سراچه درین کار اختیار رو این سخن بگو بخداونده آمرم و اختیار میں تو مامور ہوں مجھے اس کام میں کیا اختیار ہے جایا یہ بات میرے بھیجنے والے خدا سے ہوگی لے لنک سے من بدویدی بعد تبر از باغبان تبرس که من شاخ مشمرم لے وہ ہو میری طرف سیکڑوں کل اسے لے کر وہ بڑا ہے با غبان سے ڈر کیونکہ میں ایک پھلدار شاخ ہوں حکم است در اعمال میں میر سانش گر بشنوم نویگیش آن را آنجا برم اسمال کا حکم میں نہ بین تک پہنچاتا ہوں ۔ اگرمیں اسے سنوں اور لوگوں کو نہ سناؤں تو اُسے کہاں لے جاؤں ** الے قوم من وم می گفته من منگل باش ان اقل چنین جوش بین تا باترم لے میری قوم میری باتوں سے آزردہ نہ ہو شروع ہی میں ایسا ہو نہ دکھا بلکہ آخر تک میرا حال دیکھ من خود گریم این کار در امارات کی طاقت ست مهمان این نقش دارم یں خود یہ بات نہیں کہا کہ لوح محفوظ میں ہی رہی لکھا ہے اگر تجھ میں طاقت ہے تو خدا کے لکھے ہوئے کو مٹا ہے تنگنائے حیرت محکوم قوم نولیش یا رب بنائیے کہ انہیں فکر مضطرم میں اپنی قوم کے باعت بیرت اور ان کی معیت میں ہوں اے میرے رب مرانی فراک میں اس پریشانی سے بے قرار ہوتا ے خیر اند است نگرش در دور دل یک زبان شما که بر زد یک دم ی بات میں کان اور دل کی روشی سونے یک زبان کے اس کی ایک درد بھی ہمت نہیں بد گفتم نه فروع عبادت شمرده اند در شم شان پلید ترانه هرمز درم ان لوگوں نے مجھے برا کہنا عبادت سمجھ رکھا ہے۔ ان کی نظروں میں میں ہر کذاب سے زیادہ پلیہ ہوں الے دل تو یز خاطر بنیان نگاه دار کا خر کنند دعوی محبت پیمبرم اہم اسے دل تو ان لوگوں کا لحاظ رکھ کیونکہ ستہ میرے پیغمبر کی محبت کا دعو لے کر کا دعوا سے کرتے ہیں