دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 103
این بود حال و طور عاشق زار این بود قدیر دلبر اسے مردار کیا عاشق زار کا حال ایسا ہی ہوا کرتا ہے اسے مردار کیا یہی دیر کی قدر ہے عاشقان را بود ز صدق آثار اے سیہ دل ترا عشق چه کار معاشقوں میں تصدیق کے اہنا پائے جاتے ہیں اسے پیسے دل بھلا مجھے عشق سے کیا کام تازه تو نیستی است بدر نرود تخم شرک انه دل تو بر نرود جب تک تیری خودی تجھ سے دور نہ ہو گی تب تک شرک کا پیچ تیرے دل میں سے نہیں نکلے گا پائے سعیت بلند تر نمود تا ترا درد و دل بسر بود تیری کوشش کا قدم اونچا نہیں پڑے گا جب تک تیرے دل کا دھواں سر تک نہ پہنچ جائے یار پیدا شود در آن هنگام که تو گردی نهان ز خود به نہاں بنما یار اس وقت ظاہر ہوگا۔ جب تو اپنے آپ سے پوری طرح غائب ہو جائے انه سوزی نو سوز و علم تربی تا نمیری موت ہم نہی تک تو نہیں چلے کا سوزو غم سے نجات نہیں پایا اور جب تیرے گا نہیں موت کبھی رہائی نہیں پائے گا یست آن بر زمانی بن کر دو اخوت اسلش اندر دلے بنان که سوخت وہ جان دینی کیسے بیہودہ ہیں جو دعشق میں نہیں جلتے ایسے دل کو آگ لگا دے جو نہیں جلتا کلبه چسیم خود بکن بر باد چوں نے گرد و از خدا آباد اپنے جسم کی جھونپڑی کو برباد کر دے اگر وہ خدا سے آباد نہیں ہوتی ہیم برباد کر جسم کی کو یہ ہانے خود پیدا کنی از تی خویش چون نگیر در و صداقت پیش ان اپنے جسم سے اپنے پیر کو پیر کو کاٹے ٹال اگر وہ صداقت کا رشتہ اختیار نہیں کرتا تار