دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 104 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 104

ی چیز بھارت ہوں نیت جگرسے حمل شد و گردو و نیست کوئی چیز بھی اس بے مثل ذات کی ماند نہیں وہ دل تباہ ہو جائے جو اس کی محبت میں خون نہیں ہوتا۔ کی بجائے جہاں خدائے مکار بہ زید گنج خاک پاتے نگار سال تھے جہان کے خوں نے اس جنوب پر قربان ہیں اور جوب کے پیروں کی خاک سینکڑوں خزانوں سے بہتر ہے۔ هر چه از دست انور سد آن به خار او ان ہزارہ بستان به ہے اس کے بات سے پہنچے وہی اچھا ہے اس کا ایک کانٹا ہزار گلزار سے بہتر ہے ال ان بر او و بوت به قلت از بیر او د کثرت به اس کی خاطر وایت برداشت کر مبہوت سے بہتر ہے اس کی خاطر فوت اختیار کرنا دو مہندی سے بہتر ہے۔ کردن از بهراد جبات مدام صد لنا یہ خدا کے آل آلام اس کی خاطر مرنا ہمیشہ کی زندگی ہے۔ ان تکلیفوں پر سینکڑوں ازین قربانی نہیں یک در کوئے دلستاں گذری با وقا باش در ز جان گذری اسے وہ شخص جو دلبر کے کوچے میں سے گزر رہا ہے تو باوقارہ خواہ جان چلی جائے صان وفا ہے کہ طالب یار احمد جان فشانان و بیر و دار اندر وہ راستہ نہ ہو یار کے طالب ہیں وہ تو دلدار کے لیے جان قربان کر دیتے ہیں وہ تو دلدار کر گر نیا بند ماه آی دلبر از خمش جهان کنند نه برو زیر اگردہ اس محبوب تک پہنچے کا راستہ کھلا نہیں پاتے تو اس کے غم میں اپنی جان نہ و بالا کر دیتے ند ہیں ان علا تمام رنگ می دارند واز رو نام ننگ سے دارند وہ بار کے رنگ میں رنگین ہوتے ہیں اور شہرت سے انہیں عار آتی ہے