دُرِّثمین فارسی مُترجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 102 of 386

دُرِّثمین فارسی مُترجم — Page 102

۱۰۲ دلت از هجرا و کباب شود چشمت اور منقش پر آب نشود میرا دل اس کے ہجر سے کباب ہو جائے اور اس کے جانے سے تیری آنکھیں آنسو بہانے لگیں باز چون ال جمال و آل رائے شد نصیب دو چشم در دو چشم در کوئی پر جب وہ حسن اور وہ چہرہ کسی گلی میں تیری آنکھوں کے کر سامنے آجائے دست در دانش زنی بجنوں کہ نہ نادیدنت دلم شد خون کو تو دیا نہ مار اس کا دامن پکڑ کر کہتا ہے کہ تیرے نہ دیکھنے کی وجہ سے میرا دل خون ہو گیا این محبت بذره امکان از دل انگلندها خدائے بگان مخلوقات میں سے ایک ذرہ کے ساتھ تو ایسی محبت کر خدا کے لانانی کو تو نے دل سے انار رکھا ہے راس الا مالی نقاوة نال پیار تاریخی نمال جمال و زاں گنتار تو میں یار سے بالکل بے پروا ہو گیا ہے اور اس کے حال اور گفتار سے بے تعلقی بے پروا ہو گیا ہے اور اس کے بال گفتار سے بے مردگان را ہے کشی کنار دار دلآرام زنده بیزار مردوں کو تو گود میں لیتا ہے پر زندہ محبوب سے بیزار ہے کی شنیدی که قانع از یار است عشق و مبراین دو کار شماراست کیا تو نے کوئی ایسا عاشق سنا ہے جو یار سے لیے پروا ہو عشق اور صبر دونوں کا جمع ہونا مشکل ہے۔ انکه در قبر دل فرود آید دیده از دیدنش نبا ساید جو دل کی گہرائیوں میں اتر جاتا ہے تو پھر آنکھ اُس کے دیکھنے سے سیر نہیں ہوتی ؟ تو دل خود بدیگران داده میکسر از بار فارغ افتاده تو نے اپنا ولی دوسروں کو دے رکھا ہے اور یاد کی طرف سے بالکل لا پروا ہو گیا ہے