درثمین فارسی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 209 of 369

درثمین فارسی (جلد اوّل) — Page 209

فانیاں را مانعی از یار نیست بچه و زن بر سر شان بار نیست bache-o zan bar sare shaan baar neest faaniaaN raa maane'ey az yaar neest فانی لوگوں کے لئے کوئی چیز بھی یار سے مانع نہیں۔ بیوی اور بچے ان کے سر پر بوجھ نہیں ہوتے با دو صد زنجیر هر دم پیش یار خار با او گل گل اندر ہجر خار khaar baa a oo gol' gol aldar hijr khaar baa baa do do sad sad zaNjeer zalj har dam peeshe yaar سینکڑوں بندھنوں کے باوجود ہر دم محبوب کے حضور میں رہتے ہیں اس کے ہمراہ ان کو کانٹے پھول اور اس کے بغیر پھول کانٹے معلوم ہوتے ہیں تو بیک خاری براری صد فغان عاشقاں خنداں بپائے جان فشان 'aashiqaaN khaNdaaN bapaa'ey jaaN feshaan too beyek khaari baraari sad foghaan تو تو ایک کانٹے کی وجہ سے سینکڑوں چیچنیں مارتا ہے اور عاشق اپنی جان قربان کر کے بھی ہنستے رہتے ہیں عاشقان در عظمت مولی فنا غرقہ دریائے توحید از وفا 'aashiqaaN dar 'azmate maulaa fanaa gharqe'ee daryaa'ey tauheed az wafaa عاشق مولی کی عظمت میں فنا ہیں اور وفاداری کی وجہ سے دریائے توحید میں غرق ہیں کین و مهر شان همه بهر خداست قبر نشان گر هست آں قہر خداست qahre shaan garhast aaN qahre khodaast keeno mehre shaan hame behre khodaast ان کی دشمنی اور دوستی سب خدا کے لئے ہے اگر ان کو غصہ بھی آتا ہے تو وہ خدا ہی کا غصہ ہے آنکه در عشق احد محو و فناست هر چه زو آید ز ذاتِ کبریاست aaNke dar 'ishqe Ahad mehw-o fanaast har che zoo aayad ze zaate kibriyaast جو خدا کے عشق میں فانی اور محو ہے جو کچھ بھی اس سے ظاہر ہوتا ہے وہ ذات کبریا ہی کی طرف سے ہے 204