صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 86
صحیح البخاری جلد ۹ AY ۶۴ - کتاب المغازی ٤٢٥٥ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ :۴۲۵۵ علی بن عبد اللہ نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بن سفيان بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے أَبِي خَالِدٍ سَمِعَ ابْنَ أَبِي أَوْفَى يَقُولُ اسماعيل بن ابی خالد سے روایت کی۔انہوں نے لَمَّا اعْتَمَرَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ (عبد الله بن ابی اوفی سے سنا۔کہتے تھے: جب وَسَلَّمَ سَتَرْنَاهُ مِنْ غِلْمَانِ الْمُشْرِكِينَ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ کیا تو ہم وَمِنْهُمْ أَنْ يُؤْذُوا رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ آنحضرت صلی اللہ ظلم کو اپنی آڑ میں لئے ہوئے مشرکوں اور اُن کے جوشیلے نوجوانوں سے بچارہے تھے کہ کہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف نہ دیں۔عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔أطرافه: ١٦٠٠ ، ١٧٩١ ، ٤١٨٨۔٤٢٥٦: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبِ :۴۲۵۶: سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ هُوَ ابْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ حماد نے جو زید کے بیٹے ہیں ہمیں بتایا۔انہوں نے عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ ایوب (سختیانی) سے، ایوب نے سعید بن جبیر اللهُ عَنْهُمَا قَالَ قَدِمَ رَسُوْلُ الله سے، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما رَضِيَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ إِنَّهُ يَقْدَمُ عَلَيْكُمْ اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ (مکہ میں عمرہ کے وَفَدٌ وَهَنَتْهُمْ حُمَّى يَشْرِبَ وَأَمَرَهُمْ لئے) آئے تو مشرک کہنے لگے : کچھ نمائندے النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تمہارے پاس آرہے ہیں جن کو یثرب کے بخار نے ناتواں کر دیا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا کہ وہ تین دوڑیں تو دو گام رفتار سے طے کریں اور دونوں رکنوں (رکن یمانی اور حجر اسود) کے درمیان معمولی چال سے چلیں اور تمام دوڑیں آپ نے دو گام رفتار سے چلنے کا حکم نہیں دیا تو محض ان پر شفقت کی وجہ سے، (مبادا انہیں تکلیف ہو۔) يَّرْمُلُوا الْأَشْوَاطَ الثَّلَاثَةَ وَأَنْ يَمْشُوا مَا بَيْنَ الرُّكْنَيْنِ وَلَمْ يَمْنَعْهُ أَنْ يَأْمُرَهُمْ أَنْ يَّرْمُلُوا الْأَشْوَاطَ كُلَّهَا إِلَّا الْإِبْقَاءُ عَلَيْهِمْ۔