صحیح بخاری (جلد نہم)

Page 85 of 376

صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 85

صحیح البخاری جلد ۹ ۸۵ ۶۴ - کتاب المغازی كَمَا كَانَ صَالَحَهُمْ فَلَمَّا أَنْ أَقَامَ گے جتنا وہ چاہیں گے۔چنانچہ آپ آئندہ سال بِهَا ثَلَاثًا أَمَرُوهُ أَنْ يَخْرُجَ فَخَرَجَ۔عمرہ کی نیت سے آئے اور مکہ میں اسی طرح داخل ہوئے جس طرح کہ آپ نے ان سے صلح کی طرفه: ۲۷۰۱ - تھی۔جب آپ نے اس میں تین دن قیام فرمایا تو قریش نے آپ کو (مکہ سے) جانے کے لئے کہا اور آپ (مکہ سے واپس چلے گئے۔٤٢٥٣: حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ :۴۲۵۳: عثمان بن ابی شیبہ نے مجھ سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَّنْصُورٍ عَنْ مُجَاهِدٍ جرير بن عبد الحمید) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے قَالَ دَخَلْتُ أَنَا وَعُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْر منصور سے، منصور نے مجاہد سے روایت کی۔انہوں الْمَسْجِدَ فَإِذَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ نے کہا کہ میں اور عروہ بن زبیر مسجد نبوی) میں اللهُ عَنْهُمَا جَالِسٌ إِلَى حُجْرَةِ گئے۔کیا دیکھا کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما عَائِشَةَ ثُمَّ قَالَ كَمِ اعْتَمَرَ النَّبِيُّ حضرت عائشہ کے گھر کے پاس بیٹھے ہیں اور عروہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَرْبَعًا نے (ان سے) پوچھا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے عمرے کئے ؟ حضرت عبد اللہ بن عمر نے جواب رَضِيَ إحْدَاهُنَّ فِي رَجَبٍ۔طرفه ١٧٧٥ - دیا: چار ، ان میں سے ایک رجب میں تھا۔٤٢٥٤: ثُمَّ سَمِعْنَا اسْتِنَانَ عَائِشَةَ :۴۲۵۴ پھر ہم نے حضرت عائشہ کے مسواک قَالَ عُرْوَةُ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَلَا تَسْمَعِيْنَ کرنے کی آواز سنی۔عروہ نے کہا: ام المؤمنین ! يَقُوْلُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنَّ النَّبِيَّ کیا آپ نہیں سنتیں کہ ابو عبد الرحمن کیا کہتے ہیں صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْتَمَرَ أَرْبَعَ عُمَرِ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عمرے کئے، ان فَقَالَتْ مَا اعْتَمَرَ میں سے ایک رجب میں تھا۔حضرت عائشہ نے إِحْدَاهُنَّ فِي رَجَبٍ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمْرَةً إِلَّا فرمايا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی عمرہ نہیں کیا وَهُوَ شَاهِدُهُ وَمَا اعْتَمَرَ فِي رَجَبٍ قَطُّ مگر ابن عمر اس میں موجود تھے اور آنحضرت صلی ایم نے رجب میں کبھی عمرہ نہیں کیا۔أطرافه: ١٧٧٦، ۱۷۷۷۔