صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 84
صحیح البخاری جلد ۹ ۸۴ ۶۴ - کتاب المغازی وَمَوْلَانَا۔وَقَالَ عَلِيٌّ أَلَا تَتَزَوَّجُ بِنْتَ نے کہا: میرے بھائی کی بیٹی ہے۔پھر نبی صلی اللہ ہم نے حَمْزَةَ قَالَ إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ اس کے متعلق فیصلہ کیا کہ وہ اپنی خالہ کے پاس الرَّضَاعَةِ۔رہے اور فرمایا: خالہ بمنزلہ ماں ہے اور حضرت علی سے کہا: تم میرے ہو اور میں تمہارا ہوں اور حضرت جعفر سے کہا: تم صورت اور سیرت میں لوحة مجھ سے ملتے جلتے ہو اور حضرت زید سے کہا: تم ہمارے بھائی ہو اور دوست ہو۔حضرت علی نے کہا: کیا آپ حمزہ کی بیٹی سے شادی نہیں کر لیتے ؟ آپ نے فرمایا: وہ میرے دودھ بھائی کی بیٹی ہے۔( میں اس کا چچا ہوں۔) أطرافه : ۱۷۸۱ ، ۱۸٤٤ ، ۲۶۹۸ ، ٢٦۹۹ ، ٢٧٠٠ ، ٣١٨٤ - ٤٢٥٢: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعِ ۴۲۵۲: محمد بن رافع نے مجھ سے بیان کیا کہ شریح حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ قَالَ بن نعمان) نے ہمیں بتایا کہ فلیح (بن سلیمان) ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ نے ہم سے بیان کیا۔(دوسری سند) اور محمد بن إِبْرَاهِيْمَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا حسین بن ابراہیم نے مجھے بتایا۔انہوں نے کہا: فَلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ نَافِعِ عَنِ ابْنِ میرے باپ نے مجھ سے بیان کیا کہ فلیح بن سلیمان نے ہمیں بتایا۔انہوں نے نافع سے، نافع نے اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ عُمَرَ رَضِيَ (حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مُعْتَمِرًا کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عمرہ کی نیت کر کے فَحَالَ كُفَّارُ قُرَيْشٍ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْبَيْتِ (مدینہ سے) نکلے۔مگر کفار قریش آپ کے اور فَنَحَرَ هَدْيَهُ وَحَلَقَ رَأْسَهُ بِالْحُدَيْنِيَةِ بيت اللہ کے درمیان روک بنے۔آپ نے حدیبیہ وَقَاضَاهُمْ عَلَى أَنْ يَعْتَمِرَ الْعَامَ میں اپنی قربانی ذبح کر دی اور اپنا سر منڈایا اور اُن الْمُقْبِلَ وَلَا يَحْمِلَ سِلَاحًا عَلَيْهِمْ إِلَّا سے یہ ٹھہرایا کہ آپ آئندہ سال عمرہ کریں گے اور سُيُوفًا وَلَا يُقِيْمَ بِهَا إِلَّا مَا أَحَبُّوا سوائے تلواروں کے اور کوئی ہتھیار لے کر نہیں فَاعْتَمَرَ مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ فَدَخَلَهَا آئیں گے اور آپ مکہ میں صرف اتنا عرصہ ٹھہریں