صحیح بخاری (جلد نہم)

Page 83 of 376

صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 83

صحیح البخاری جلد ۹ ۸۳ ۶۴ - کتاب المغازی يُحْسِنُ يَكْتُبُ فَكَتَبَ هَذَا مَا قَاضَی نے لکھا ہوا کاغذ لے لیا اور آپ اچھی طرح لکھنا نہیں مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ لَا يُدْخِلُ مَكَّةَ جانتے تھے۔ آپ نے یوں لکھا: یہ وہ شرطیں ہیں جو السّلاحَ إِلَّا السَّيْفَ فِي الْقِرَابِ وَأَنْ محمد بن عبد اللہ نے ٹھہرائیں۔ مکہ میں کوئی ہتھیار لَّا يَخْرُجَ مِنْ أَهْلِهَا بِأَحَدٍ إِنْ أَرَادَ أَنْ نہیں لائیں گے، سوائے تلواروں کے جو نیاموں میں يَتْبَعَهُ وَأَنْ لَّا يَمْنَعَ مِنْ أَصْحَابِهِ أَحَدًا ہوں گی اور مکہ والوں میں سے کسی کو بھی ساتھ نہیں إِنْ أَرَادَ أَنْ يُقِيمَ بِهَا فَلَمَّا دَخَلَهَا لے جائیں گے ۔ اگر چہ وہ ان کے ساتھ جانا چاہے اور وَمَضَى الْأَجَلُ أَتَوْا عَلِيًّا فَقَالُوا قُلْ اپنے ساتھیوں میں سے کسی کو بھی نہیں روکیں گے لِصَاحِبِكَ اخْرُجْ عَنَّا فَقَدْ مَضَى اگر وہ مکہ ٹھہرنا چاہے۔ (خیر جب اس معاہدہ کے الْأَجَلُ فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ مطابق) آپ (آئندہ سال) مکہ میں داخل ہوئے اور ( تین دن کی مدت ختم ہوگئی تو قریش حضرت علی کے وَسَلَّمَ فَتَبِعَتْهُ ابْنَةُ حَمْزَةَ تُنَادِي يَا عَمِّ پاس آئے اور کہنے لگے: اپنے ساتھی (محمد صلی للہ ہم سے يَا عَمِّ فَتَنَاوَلَهَا عَلِيٌّ فَأَخَذَ بِيَدِهَا کہو کہ اب یہاں سے چلے جائیں۔ کیونکہ مقررہ مدت م المدرسة ہو گئے۔ وَقَالَ لِفَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلَامُ دُونَكِ گزر چکی ہے۔ چنانچہ ہی لیا کہ وہاں سے روانہ ہو ۔ ابْنَةَ عَمِّكِ حَمِلِيْهَا فَاخْتَصَمَ فِيهَا حضرت حمزہ کی بیٹی آپ کے پیچھے آئی جو پکار رہی تھی کہ عَلِيٌّ وَزَيْدٌ وَجَعْفَرٌ قَالَ عَلِيٌّ أَنَا اے چا! اے چا! حضرت علی نے جا کر اسے لے لیا۔ أَخَذْتُهَا وَهِيَ بِنْتُ عَمِّي وَقَالَ جَعْفَرٌ اس کا ہاتھ پکڑا اور حضرت فاطمہ علیہا السلام سے کہا: ابْنَةُ عَمِّي وَخَالَتُهَا تَحْتِي وَقَالَ زَيْدٌ اپنے چا کی بیٹی کو لے لیں۔ انہوں نے اس کو سوار کر ابْنَةُ أَخِي فَقَضَى بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ لیا ۔ اب حضرت علی، حضرت زید اور حضرت جعفر عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِخَالَتِهَا وَقَالَ الْخَالَةُ (حضرت حمزہ کی ) لڑکی کی بابت جھگڑنے لگے ۔ لگے۔ حضرت بِمَنْزِلَةِ الْأُمِّ وَقَالَ لِعَلِيّ أَنْتَ مِنِّي علی کہنے لگے: میں نے اس کو لیا ہے اور میرے چچا کی وَأَنَا مِنْكَ وَقَالَ لِجَعْفَرٍ أَشْبَهْتَ بیٹی ہے اور حضرت جعفر نے کہا: میرے چا کی بیٹی خَلْقِي وَخُلُقِي وَقَالَ لِزَيْدٍ أَنْتَ أَخُونَا ہے اور اس کی خالہ میری بیوی ہے اور حضرت زید ا فتح الباری مطبوعہ بولاق میں لفظ حملتا ہے۔ ( فتح الباری جزءے حاشیہ صفحہ ۱۲۵) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔