صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 3
صحیح البخاری جلد ۹ ۶۴ - کتاب المغازی عَلَيْهِمْ فَلَمَّا أَمْسَى النَّاسُ مَسَاءَ خير فتح کر دیا۔جب اس دن شام ہوئی جس دن الْيَوْمِ الَّذِي فُتِحَتْ عَلَيْهِمْ أَوْقَدُوا کہ ان پر فتح حاصل ہوئی تو لوگوں نے جابجا آگ نِيرَانًا كَثِيرَةً فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ جلائی۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ آگ کیسی ہے ؟ کس لئے جلا رہے ہو ؟ انہوں نے کہا: عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا هَذِهِ النِّيرَانُ عَلَى أَيْ گوشت (پکانے) کے لئے۔آپ نے پوچھا: کونسا شَيْءٍ تُوقِدُوْنَ قَالُوْا عَلَى لَحْمٍ قَالَ گوشت (پکانے) کے لئے ؟ انہوں نے کہا: پالتو عَلَى أَي لَحْمٍ قَالُوا لَحْمُ حُمُرِ گدھوں کا گوشت۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: الْإِنْسِيَّةِ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ انہیں انڈیل دو اور ہانڈیاں توڑ دو۔ان میں سے وَسَلَّمَ أَهْرِيقُوهَا وَاكْسِرُوهَا فَقَالَ ایک شخص نے کہا: یا رسول اللہ ! کیا ہم ان کو انڈیل رَجُلٌ يَا رَسُوْلَ اللهِ أَوْ نُهَرِيقُهَا دیں اور دھو لیں؟ آپ نے فرمایا: ایسا ہی کرلو۔وَنَغْسِلُهَا قَالَ أَوْ ذَاكَ فَلَمَّا تَصَافُ جب لوگ (جنگ کے لئے ) آمنے سامنے ہوئے، حضرت عامر کی تلوار چھوٹی تھی انہوں نے اس الْقَوْمُ كَانَ سَيْفُ عَامِرٍ قَصِيرًا سے ایک یہودی کی پنڈلی پر وار کیا کہ اسے قتل فَتَنَاوَلَ بِهِ سَاقَ يَهُودِيَ لِيَضْرِبَهُ کریں۔ان کی تلوار کی دھار انہی کو مڑ کر لگی۔جس وَيَرْجِعُ ذُبَابُ سَيْفِهِ فَأَصَابَ عَيْنَ سے حضرت عامر کے گھٹنے کی چینی پر زخم لگا اور رُكْبَةِ عَامِرٍ فَمَاتَ مِنْهُ قَالَ فَلَمَّا حضرت عامر اسی زخم کی وجہ سے شہید ہو گئے۔قَفَلُوا قَالَ سَلَمَةُ رَآنِي رَسُوْلُ اللَّهِ حضرت سلمہ بن اکوغ) کہتے تھے: جب لوگ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ آخِذٌ (خیبر سے) لوٹے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بِيَدِي قَالَ مَا لَكَ قُلْتُ لَهُ فَدَاكَ نے مجھے دیکھا اور آپ نے میرا ہاتھ پکڑ کر پوچھا: تمہیں کیا ہوا ہے؟ میں نے آپ سے کہا: میرے أَبِي وَأُمِّي زَعَمُوا أَنَّ عَامِرًا حَبِطَ ماں باپ آپ پر قربان ! لوگ کہتے ہیں کہ عامر کا عَمَلُهُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ عمل ضائع ہو گیا۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وَسَلَّمَ كَذَبَ مَنْ قَالَهُ إِنَّ لَهُ لَأَجْرَيْن جس نے یہ کہا، غلط کہا۔عامر کو دو اجر ملیں گے وَجَمَعَ بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ إِنَّهُ لَجَاهِدٌ اور آپ نے اپنی دو انگلیوں کو اکٹھا کیا۔وہ تو بڑا ہی جہاد کرنے والا ہے۔اس جیسا کم ہی کوئی ایسا مُجَاهِدٌ قَلَ عَرَبِيٌّ مَشَى بِهَا مِثْلَهُ۔عرب ہوا ہے جو اس زمین پر چلا ہو۔