صحیح بخاری (جلد نہم)

Page 2 of 376

صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 2

صحیح البخاری جلد ۹ رَضِيَ ۶۴ - کتاب المغازی اللهُ عَنْهُ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ رضی اللہ عنہ سے روایت کی انہوں نے کہا: ہم نبی صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خَيْبَرَ صلى الله علیہ وسلم کے ساتھ خیبر کی طرف نکلے۔فَسِرْنَا لَيْلًا فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ رات کو ہم چلے تو لوگوں میں سے ایک شخص نے لِعَامِرٍ يَا عَامِرُ أَلَا تُسْمِعُنَا مِنْ حضرت عامر سے کہا: عامر! کیا تم ہمیں اپنے شعر هُنَيْهَاتِكَ وَكَانَ عَامِرٌ رَجُلًا شَاعِرًا نہیں سناؤ گے؟ اور حضرت عامر شاعر تھے فَنَزَلَ يَحْدُو بِالْقَوْمِ يَقُولُ: تو حضرت عامر سواری سے اتر کر یہ شعر سنانے ریم اریم اور لوگوں کو چلانے لگے: اللَّهُمَّ لَوْلَا أَنْتَ مَا اهْتَدَيْنَا اے اللہ ! اگر تو نہ ہوتا تو ہم ہدایت نہ پاتے وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا اور نہ صدقہ دیتے نہ نماز پڑھتے۔ہماری پردہ پوشی فرماتے ہوئے ہمارے گناہوں سے فَاغْفِرْ فِدَاءً لَكَ مَا اتَّقَيْنَا درگزر کر جب تک کہ ہم زندہ رہیں ہم تجھ وَثَبَتِ الْأَقْدَامَ إِنْ لَّا قَيْنَا پر فدا ہوں۔اور ہمارے قدم مضبوط رکھیو، اگر ہمارا دشمن سے مقابلہ ہو۔اور ہمیں اطمینان وَأَلْقِيَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا بخش۔جب کبھی ہم جنگ کے لئے پکارے گئے إِنَّا إِذَا صِيْحَ بِنَا أَبَيْنَا ہم انکار کرتے رہے اور جنگ کی للکار ہی سے وَبِالصِّيَاحِ عَوَّلُوا عَلَيْنَا وہ ہم پر اکڑنے لگے۔رض فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ( یہ سن کر ) رسول اللہ صلی علیم نے پوچھا: یہ حدی خواں وَسَلَّمَ مَنْ هَذَا السَّائِقُ قَالُوا عَامِرُ کون ہے؟ لوگوں نے کہا: عامر بن اکوع" آپ نے بْنُ الْأَكْوَع قَالَ يَرْحَمُهُ اللهُ قَالَ فرمایا: اللہ اس پر رحم کرے۔قافلہ میں سے ایک شخص ( حضرت عمرؓ) نے (سن کر ) کہا: اب تو عامر رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ وَجَبَتْ يَا نَبِيَّ اللهِ کے لئے (شہادت) لازم ہوگئی۔یا نبی اللہ! آپ نے لَوْ لَا أَمْتَعْتَنَا بِهِ فَأَتَيْنَا خَيْبَرَ عامر سے ہمیں فائدہ کیوں نہ اُٹھانے دیا۔ہم خیبر فَحَاصَرْنَاهُمْ حَتَّى أَصَابَتْنَا مَحْمَصَةٌ اور ہم نے اُن کا محاصرہ کیا۔آخر ہمیں سخت شَدِيدَةٌ ثُمَّ إِنَّ اللهَ تَعَالَى فَتَحَهَا بُھوک لگی۔پھر اللہ تعالیٰ نے (انہیں مغلوب کر کے) ا عمدۃ القاری میں اس جگہ مَا أَنقَيْنَا ہے۔(عمدۃ القاری جزء ۱ صفحہ ۲۳۴)