صحیح بخاری (جلد نہم)

Page 82 of 376

صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 82

صحيح البخاری جلد ۹ Ar ۶۴ - کتاب المغازی کے امن کو مسلسل خطرہ میں ڈالا ہوا تھا۔اس لئے ان قبائل کی سرکوبی از بس ضروری تھی۔حضرت زید بن حارثہ کی مشار الیہ مہم اس تعلق میں آخری میچ تھی۔مغازی کی مشار الیہا روایات چونکہ امام بخاری کے میعار و شرائط صحت پر نہیں اس لئے وہ نظر انداز کی گئی ہیں اور اس باب کی روایت میں ان کا ذکر محملا ہے۔عَنِ بَاب ٤٣ : عُمْرَةُ الْقَضَاءِ عمرة قضاء ذَكَرَهُ أَنَسٌ عَنِ النَّبِيِّ الله۔حضرت انس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے اس کا ذکر کیا۔اضی عنہ ٤٢٥١: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ :۴۲۵۱ عبید اللہ بن موسیٰ نے مجھے بتایا۔انہوں مُوسَى عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ نے اسرائیل سے، اسرائیل نے ابواسحاق سے، الْبَرَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا انہوں نے حضرت براء بن عازب ) سے اعْتَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ روایت کی۔انہوں نے کہا: جب نبی صلی ہم نے فِي ذِي الْقَعْدَةِ فَأَبَى أَهْلُ مَكَّةَ أَنْ ذی القعدہ میں عمرہ کرنے کا ارادہ کیا تو اہل مکہ نے اس بات سے انکار کیا کہ آپ کو مکہ میں داخل الله يَدَعُوهُ يَدْخُلُ مَكَّةَ حَتَّى قَاضَاهُمْ ہونے دیں۔آخر آپ نے ان سے اس شرط پر صلح عَلَى أَنْ تُقِيْمَ بِهَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَلَمَّا کی کہ آپ ( آئندہ سال عمرہ کو آئیں گے اور ) یہاں كَتَبُوا الْكِتَابَ كَتَبُوا هَذَا مَا قَاضَی (مکہ میں تین دن تک ٹھہریں گے۔جب صلح نامہ عَلَيْهِ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللهِ قَالُوا لَا نُقِرُّ لکھنے لگے تو یوں لکھا کہ یہ وہ شرطیں ہیں جن پر محمد لَكَ بِهَذَا لَوْ نَعْلَمُ أَنَّكَ رَسُوْلُ اللهِ رسول الله (صلی للی ) نے صلح کی۔(مکہ والے) کہنے مَا مَنَعْنَاكَ شَيْئًا وَلَكِنْ أَنْتَ مُحَمَّدُ لگے : ہم اس (مقام) کو نہیں مانتے۔اگر ہم جانتے بْنُ عَبْدِ اللهِ فَقَالَ أَنَا رَسُولُ اللهِ کہ آپ اللہ کے رسول ہیں، آپ کو کبھی نہ روکتے۔بلکہ آپ محمد بن عبد اللہ ہیں۔آپ نے فرمایا: میں وَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ثُمَّ قَالَ لِعَلِقٍ الله كار رسول بھی ہوں اور محمد بن عبد اللہ بھی۔آپ امْحُ رَسُوْلَ اللهِ قَالَ عَلِيٌّ لَا وَاللهِ نے حضرت علی سے فرمایا: رسول اللہ" کا لفظ مٹادو۔لَا أَمْحُوكَ أَبَدًا فَأَخَذَ رَسُوْلُ اللهِ حضرت علی نے کہا: ہرگز نہیں، اللہ کی قسم ! میں آپ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكِتَابَ وَلَيْسَ (کے خطاب) کو کبھی نہیں مٹاؤں گا۔رسول اللہ صلی الیونم