صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 81
صحیح البخاری جلد ۹ AM ۶۴ - کتاب المغازی فَقَالَ إِنْ تَطْعَنُوا فِي إِمَارَتِهِ فَقَدْ مقرر کیا۔ لوگوں نے ان کی امارت پر طعنہ زنی کی، طَعَنْتُمْ فِي إِمَارَةِ أَبِيهِ مِنْ قَبْلِهِ وَايْمُ اللهِ آپؐ نے فرمایا: اگر تم اس کی امارت پر طعنہ زنی لَقَدْ كَانَ خَلِيْقًا لِلْإِمَارَةِ وَإِنْ كَانَ کرتے ہو تو تم اس سے پہلے اس کے باپ کی امارت مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ وَإِنَّ هَذَا لَمِنْ پر بھی طعن کر چکے ہو۔ اللہ کی قسم ! یقینا وہ امارت أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ بَعْدَهُ۔ کے لائق تھا اور وہ ان لوگوں میں سے تھا جو مجھے بہت ہی پیارے ہیں اور یہ بھی اس کے بعد اُن أطرافه ٣٧٣٠ ، ٤٤٦٨ ، ٤٤٦٩ ، ٦٦٢٧ ، ٧١٨٧۔ رغم لوگوں میں سے ہے جو مجھے بہت ہی پیارے ہیں۔ تشریح : غَزْوَةُ زَيْدِ بْنِ بن حارثة : حضرت زید بن زید بن حارثہ حضرت خدیجہ کے خدیجہ کے غلام تھے۔ آ تھے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے نکاح ہونے پر حضرت خدیجہ نے اپنا مال و دولت آپ کے سپرد کر دیا تھا۔ اس میں حضرت زید بھی تھے۔ آپ نے حضرت زید بن حارثہ کو آ حضرت زید بن حارثہ کو آزاد کر دیا جس کی وجہ سے وہ آپ کے ۔ ہ آپ کے مولیٰ یعنی آزاد کر وہ غلام کہلائے۔ مولی کے معنی ہیں دوست و مددگار ۔ آپ کو ان سے بڑی محبت تھی حتی کہ وہ آپ کے متبنیٰ کہلائے۔ انہی کا ذکر سورۃ الاحزاب آیت ۳۸ میں ہے۔ بعض مہمات کا تعلق ان کی قیادت سے ہے جس کا ذکر کتب مغازی میں آیا ہے۔ امام ابن حجر کی تحقیق میں یہ مہمات سات ہیں، جیسا کہ حضرت سلمہ بن اکوع کا بیان ہے۔ پہلی مہم جمادی الآخرۃ ۵ ھ میں مسجد کی طرف ایک سو سواروں کے ساتھ روانہ کی گئی تھی۔ دوسری مہم ربیع الثانی ۶ھ میں قبیلہ بنی سلیم کی طرف۔ تیسری مہم جمادی الاولیٰ ۶ھ میں ہوئی جس میں ایک سوستر مجاہدین کا قریش کے قافلہ کے ساتھ مقابلہ ہوا۔ اس مہم میں ابو العاص بن ربیع کو قید کیا گیا تھا۔ چوتھی مہم جمادی الآخرۃ ۲ ھ قبیلہ بنی ثعلبہ کی طرف تھی۔ پانچویں مہم پانچ سو مجاہدین کے ساتھ بنو جذام کی سرکوبی کے لئے جنہوں نے حضرت دحیہ کلبی کو شام کے راستے میں لوٹا تھا، جبکہ وہ ہر قل کو خط پہنچا کر ، مدینہ واپس آرہے تھے۔ جسمی مقام پر مجاہدین کا ان سے مقابلہ ہوا۔ چھٹی مہم وادی القریٰ کی طرف اور ساتویں مہم بنو فزارہ کی طرف۔ اس مہم سے قبل وہ تجارت کی غرض سے نکلے تھے۔ اس قبیلہ نے اس تجارتی قافلے کو لوٹ لیا اور حضرت زید بن حارثہ کو شدید مارا پیٹا تو آنحضرت صلی علی یم نے انہیں اس قبیلہ کی سرکوبی کے لئے بھیجا۔ مقابلہ ہونے پر بنو فزارہ کو شکست ہوئی۔ (فتح الباری جزءے صفحہ ۶۲۴) اس ساتویں مہم کے تعلق میں دیکھئے سیرت خاتم النبیین صلی ال سلیم مؤلفہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے صفحہ ۷ ۷۱ تا ۷۲۱۔ ان میں سے اکثر مہمات چھٹی ہجری میں مدینہ منورہ سے بھیجی گئی تھیں۔ مہینوں سے متعلق قدرے اختلاف ہے۔ اس لئے امام ابن حجر نے بعض مہمات کی تاریخ وقوع کا ذکر کیا ہے اور بعض کا نہیں۔ چھٹی ہجری میں ہی خیبر فتح ہوا اور یہ وہ یہودی مرکز تھا جس کی انگیخت سے قبائل فزارہ و سلیم وغیرہ نے علاقے