صحیح بخاری (جلد نہم)

Page 80 of 376

صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 80

صحیح البخاری جلد ۹ ۸۰ ۶۴ - کتاب المغازی صراحت ہے: وَهَذَا مُنْقَطِعْ لِأَنَّ الزُّهْرِى لَمْ يَسْمَعْ مِنْ جَابِرٍ - یعنی یہ روایت منقطع ہے۔ کیونکہ زہری نے حضرت جابر سے نہیں سنی۔ معمر کی جس روایت کا حوالہ دیا گیا ہے وہ مرسل اور منقطع ہے۔ معلوم نہیں کہ صحابہ میں سے کس نے یہ بیان کیا ہے۔ روایت کے الفاظ یہ ہیں: قَالَ مَعْمَرُ وَالنَّاسُ يَقُولُونَ فَتَلَهَا۔ بیہقی نے اس خیال کا اظہار کیا ہے کہ ہو سکتا ہے آپ نے پہلے عفو سے کام لیا ہو اور پھر حضرت بشر کے فوت ہونے پر اس سے قصاص لیا گیا۔ امام ابن حجر نے اس تعلق میں اس خیال کا اظہار کیا ہے کہ یہ بھی احتمال ہے کہ زینب کے اسلام قبول کرنے کی وجہ سے اس سے قصاص نہ لیا گیا ہو۔ امام زہری ہی اس روایت میں منفر د نہیں کہ وہ مسلمان ہو گئی تھی۔ بلکہ سلیمان تیمی نے بھی اپنی کتاب مغازی میں پورے جزم سے زینب کے یہ الفاظ نقل کئے ہیں: وَقَدِ اسْتَبَانَ لِي الْآنَ أَنَّكَ صَادِقٌ، وَأَنَا أُشْهِدُكَ وَمَنْ حَضَرَ أَنِّي عَلَى دِينِكَ وَأَن لَّا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُوْلُهُ مجھ پر اب پورے طور پر واضح ہو چکا ہے کہ آپ راستباز ہیں اور میں آپ کے دین پر ہوں۔ یہ کہہ کر زینب نے کلمہ شہادت پڑھا۔ ( فتح الباری جزءے صفحہ ۶۲۲، ۶۲۳) خلاصہ یہ ہے کہ زینب کے معاف کئے جانے اور مسلمان ہونے کی بابت زیادہ معتبر روایتیں ہیں اور واقدی کی روایتیں غیر مستند۔ اس لئے اول الذکر روایتیں قابل ترجیح ہیں۔ موسیٰ بن عقبہ نے بھی زہر دینے والی یہو دن کا نام زینب بنت حارث ہی نقل کیا ہے اور امام زہری سے یہ بھی منقول ہے کہ جب زینب سے پوچھا گیا کہ اسے کس بات نے اس جرم پر آمادہ کیا تو اس نے کہا: آپ نے میرے باپ، چا، خاوند اور بھائی کو قتل کر دیا ہے۔ ابراہیم بن جعفر نے بیان کیا کہ اس کے چا کا نام بیسار تھا جو بزدل تھا اور پر چھتی پر چھپ گیا تھا، ج اتھا، جہاں سے وہ اتارا گیا۔ زینب ک خاوند سلام بن مشکم تھا اور بھائی کا نام زبیر تھا۔ باب ٤٢ : غَزْوَةُ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ غزوہ حضرت زید بن حارثہ اریم ( فتح الباری جزءے صفحہ ۶۲۳) ٤٢٥٠ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا ۴۲۵۰ مسدد بن مسرہد نے ہم سے بیان کیا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ كه يحي بن سعید نے ہمیں بتایا۔ سفیان بن سعید سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ عَنِ (ثوری) نے ہم سے بیان کیا، (کہا: ) عبد اللہ بن ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ أَمَّرَ دینار نے ہمیں بتایا کہ بتایا کہ (عبد الله ) بن عمر رضی اللہ عنہما رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللی سیم أُسَامَةَ عَلَى قَوْمٍ فَطَعَنُوا فِي إِمَارَتِهِ نے حضرت اسامہ بن زید) کو ایک فوج کا امیر