صحیح بخاری (جلد نہم)

Page 79 of 376

صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 79

صحیح البخاری جلد ۹ ۷۹ ۶۴ - كتاب المغازی پروفیسر اسرائیل نے گو اپنی قوم کی ایک مجرم خاتون کی معذوری کا اظہار کیا ہے۔ لیکن ان کی اس معذرت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بلند اخلاق کے بارے میں نمایاں شہادت ہے۔ اس یہودی خاتون کا اقرار جرم سننے کے باوجود آپ نے اس سے درگزر فرمایا۔ ایسی مجرم عورت عورت کے لئے عذر خواہی کرنے کی جگہ یوں یوں کہ کہنا زیادہ مناسب ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اخلاق کریمہ میں ایک بہت بڑے بلند مقام پر تھے کہ آپ نے اپنے نفس کے لئے انتقام نہیں لیا اور قصور وار خاتون کو عفو سے نوازا۔ اس عفو کے بعد اس کی طرف سے عذر خواہی کا کوئی موقع نہیں۔ اگر اس کا خاوند اور اس کے رشتہ دار مارے گئے تھے تو اپنی غداری اور بغاوت کی وجہ سے جس کا علم زینب کو بخوبی تھا۔ وہ قابل عفو نہ تھی۔ حضرت صفیہ اور زینب کے درمیان جو فرق تھا، وہ ایک شریف اور غیر شریف کے در میان کا فرق ہے کہ ایک اپنے تعصب میں بالکل اندھی اور دوسری غیر متعصب اور حقیقت شناس۔ غرض ان دونوں یہودی خواتین کے ذریعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کریمہ کی ناقابل انکار شہادت قائم ہوتی ہے۔ امام بخاری نے اسی غرض سے یہ باب قائم کیا ہے۔ بے شک نفسانی جذبات کا وہی تقاضا ہے جس کا مظاہرہ زینب یہو دن نے کیا تھا اور عدل کا تقاضا تھا کہ اس سے قصاص لیا جاتا۔ کیونکہ اس کے زہر سے حضرت بشر بن براہ فوت ہو گئے ۔ مگر اس قصاص میں ایک مشکل یہ بھی تھی کہ اس زہر سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خود متاثر ہوئے اور قاضی کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے ذاتی علم کی بناء پر فیصلہ صادر کرے۔ حدود میں فیصلہ کی بنیاد شہادت پر ہے۔ جو زینب کے معاملے میں مفقود تھی۔ کسی نے اسے ران کو زہر آلود کرتے نہیں دیکھا تھا اور اقرار جرم تک حضرت بشر بن براء فوت نہیں ہوئے تھے۔ ان کی موت بعد میں واقع ہوئی ہے۔ زینب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سلوک سے متاثر ہو کر مسلمان ہو چکی تھی۔ بیہقی نے بسند سعید بن مسیب وابو سلمہ ۔ حضرت ابو ہریرہ سے نقل کیا ہے : فَمَا عَرَضَ لَهَا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے زینب سے تعرض نہیں کیا۔ اور بسند ابو نضرہ - حضرت جابر سے روایت کی ہے کہ وَلَمْ يُعاقِبُهَا اور اسے سزا نہیں دی۔ ! فتح الباری جزءے صفحہ ۶۲۳،۶۲۲) ابن سعد کی روایت ہے کہ دوسرے یہودیوں کو بھی زینب کے بکری کے گوشت میں زہر ملانے کا علم تھا۔ کے جب آنحضرت صلی علیم نے ان سے پوچھا تو انہوں نے اس کا اقرار کیا۔ در حقیقت بعض یہودی زینب کے کردار میں اس کے ساتھ شامل تھے۔ لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بیچ بیان کرنے پر زینب کو معاف فرما دیا تھا۔ ابن سعد نے واقدی کی روایت نقل کی ہے کہ حضرت بشر بن براٹ کے زہر سے فوت ہونے پر قاتلہ ان کے ورثاء کے سپرد کی گئی تھی۔ جنہوں نے اسے قصاص میں قتل کر دیا تھا۔ اس روایت کی کمزوری سے متعلق ان الفاظ میں ! ( سنن أبی داود، کتاب الديات، باب فى من سقى رجلا سما أو أطعمه فمات أيقاد منه) (السنن الكبرى للبيهقى، كتاب الجراح، باب من سقى رجلا سماء روایت نمبر ۱۶۰۰۸، جزء ۸ صفحه ۸۲) الطبقات الكبرى لابن سعد، ذِكْرُ مَا هُم بِهِ رَسُولُ الله ، جزء ۲ صفحه ۱۵۴ تا ۱۵۶)