صحیح بخاری (جلد نہم)

Page 78 of 376

صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 78

صحیح البخاری جلد ۹ ۷۸ ۶۴ - کتاب المغازی تشريح : الشَّاةُ التي سُمَتْ لِلنبي سلام بِخَيْر : عنوان باب میں حضرت عائشہ کی جس روایت کا حوالہ دیا گیا ہے وہ زیر باب مختصر نقل کی گئی ہے۔ لیکن کتاب المغازی باب ۸۳ مَرَضُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوَفَاتُهُ میں مفصل مذکور ہے نیز اس تعلق میں کتاب الطب، باب ۵۵ مَا يُذْكَرُ فِي سُمِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بھی دیکھئے۔ ابن ہشام کی روایت میں ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح خیبر سے مطمئن : بن ہوئے اور حالت امن بر قرار ہو گئی تو سلام بن مشکم کی بیوی بیوی زینب بنت حارث نے زہر آلود بھنا ہوا ا گوشت گوش ابطور ہدیہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا۔ بھیجنے سے پہلے اس نے دریافت کیا کہ بکری کے گوشت کا کونسا حصہ آپؐ کو پسند ہے؟ جب اُسے بتایا گیا کہ ران آپ کو پسند ہے تو اُس نے اس میں خوب زہر ملایا۔ جب آپ لقمہ چبانے لگے تو آپ کو محسوس ہوا اور لقمہ اگل دیا۔ حضرت بشر بن براء آپ کے ساتھ کھانے میں شریک تھے۔ انہوں نے زہر محسوس نہیں کیا۔ آپ نے وہ ران کھانے سے صحابہ کو روک دیا۔ حضرت بشر اسی زہر کے اثر سے بعد میں فوت ہو گئے۔ اس روایت میں یہ بھی مذکور ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے زینب سے درگا در گذر فرمایا ! اس واقعہ سے ظاہر ہے کہ آپ نے اپنے نفس کی خاطر کسی سے انتقام نہیں لیا۔ جس شفقت کا اظہار زینب سے کیا گیا، پروفیسر اسرائیل نے اس کے متعلق مندرجہ ذیل الفاظ میں ذکر کیا ہے: وَلَقَدْ أَثَارَ هَذَا الْعَمَلُ سُخْطًا شَدِيدًا فِي نُفُوسِ مُؤَرِنِى الْعَرَبِ عَلَى هَذِهِ الْفَتَاةِ الَّتِي حَاوَلَتْ أَنْ تَغْتَالَ حَيَاةَ الرَّسُولِ بِمِثْلِ هَذِهِ الْمَكِيدَةِ۔ وَلَكِن يَجِبُ أَلَّا يَغِيبَ عَنِ الْبَالِ صَعُوبَةُ اطْمَثْنَانِ فَتَاةٍ إِلَى الْحَيَاةِ بَعْدَ أَنْ قُتِلَ أَبُوهَا وَكَانَ زَعِيْمًا شَرِيفًا وَمَاتَ زَوْجُهَا وَكَانَ قَائِدًا ذَا مَجْدٍ تَلِيدٍ وَفَتَاةٌ فِي مِثْلِ مَوْقِفِهَا لَا بُدَّ أَنْ تَسْقُطَ تَحْتَ سُلْطَانِ الْغَضَبِ وَتَصْغَى لِوَحْيِ الانْتِقَامِ لَا سِيَّمَا وَهِيَ مَالِكَةً لَهُ قَادِرَةً عَلَيْهِ وَالْمُؤَزِخُ الَّذِي يَنْتَفِتُ إِلَى هَذِهِ الْإِعْتِبَارَاتِ كُلِّهَا يَلْتَمِسُ لِهَذِهِ الْمَرْأَةِ بَعْضَ الْعُذْرِ فِيمَا أَقْدَمَتْ عَلَيْهِ مِنْ عَمَلٍ مُنْكَرٍ - أَمَّا صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٌ بْنِ أَخْطَبَ فَقَدْ أَقَامَتْ عَلَى الْوَلَاءِ وَالْوَفَاءِ لِزَوْجِهَا الْجَدِيدِ وَ بَقِيَتْ مَعَهُ قَرِينَةً مُخْلِصَةً إِلَى أَنِ انْتَقَلَ إِلَى جَوَارِ رَبِّهِ اس عربی عبارت کا مفہوم یہ ہے کہ مسلم مؤرخین نے زینب پر جو سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے کہ اس نے مذکورہ بالا تدبیر سے رسول رسول کریم صلی اللہ علم کی زندگی ختم کرنے کی کوشش کی۔ ان ۔ کی۔ ان مورخین کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ وہ ایک ایسی عورت تھی جس کا باپ مارا گیا جو قوم کا سردار تھا اور خاوند مر گیا جو ایک سپہ سالار تھا اور دیرینہ جاہ و حشمت کا مالک۔ اس حالت طیش میں وہ بے بس ہو گئی اور اسے انتظام کی سوجھی۔ کیونکہ وہ انتقام لینے کی قدرت رکھتی تھی۔ جو مؤرخ ان باتوں پر نظر رکھے گا وہ کسی قدر اس ناپسندیدہ فعل میں اسے معذور سمجھے گا۔ جہاں تک حضرت صفیہ بنت في بن اخطب کا تعلق ہے تو وہ اپنے نئے خاوند سے ان کی وفات تک وفادار رہیں اور ایک مخلص رفیقہ حیات ثابت ہوئیں۔ (السيرة النبوية لابن هشام ، غزوة خيبر ، قصة الشاة المسمومة، جزء ۳ صفحه ۲۸۷) (تاريخ اليهود في بلاد العرب، الباب الثامن غزوة خيبر ، صفحہ ۱۷۱، ۱۷۲)