صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 76
صحیح البخاری جلد ۹ ۷۶ ۶۴ - کتاب المغازی ٤٢٤٦ - ٤٢٤٧: وَقَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ ۴۲۴۷-۴۲۴۶ اور عبد العزیز بن محمد نے بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ عَنْ عبد المجید سے، عبدالمجید نے سعید سے روایت سَعِيدٍ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ وَأَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَاهُ کرتے ہوئے یوں کہا کہ حضرت ابوسعید اور أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ حضرت ابوہریرہ دونوں نے اس سے بیان کیا کہ أَخَا بَنِي عَدِي مِنَ الْأَنْصَارِ إِلَى نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی عدی کے ایک شخص کو خَيْبَرَ فَأَمَّرَهُ عَلَيْهَا ۔ جو انصار میں سے تھے، خیبر کی طرف بھیجا۔ آپ نے ان کو وہاں کا محصل مقرر کیا۔ وَعَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ اور (اسی سند سے ) عبد المجید سے مروی ہے کہ السَّمَانِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ انہوں نے ابو صالح سمان سے، ابو صالح نے مِثْلَهُ۔ حضرت ابوہریرہ اور حضرت ابوسعید سے اسی طرح روایت کی۔ أطراف الحديث ٤٢٤٦ : ۲۲۰۱ ، ٢٣۰۲ ، ٤٢٤٤ ، ٧٣٥٠۔ أطراف الحديث ٤٢٤٧ : ۲۲۰۲ ، ٢۳۰۳ ، ٤٢٤٥ ، ٧٣٥١۔ تشريح ۔ اسْتِعْمَالُ النَّبِيِّ لا عَلَى أَهْلِ خَيْبَرَ : روایت نمبر ۴۲۴۴-۴۲۴۵ میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کے تقویٰ، اعلیٰ نمونہ اور حسن سلوک کا ہی ذکر ہے جو مفتوحین کے تعلق میں دکھایا گیا ہے۔ تقوی اللہ ہی کا ذکر گذشتہ باب (نمبر ۳۸) کے آخر میں مذکور روایات (نمبر ۴۲۳۴ تا ۴۲۴۱) میں ہے جس کی آپ نے ہمیشہ صحابہ کرام کو تلقین فرمائی اور اسی کے مطابق آپ کا اسوہ حسنہ تھا اور یہی آپ کے صحابہ کرائم کا شعار بنا۔ جس کے ذریعہ سے وہ غیروں سے ممتاز تھے۔ تقویٰ کے معنی ہیں نہایت درجہ احتیاط ۔ دونوں ابواب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کی تقویٰ شعاری سے متعلق شہادت ہے جو غزوہ خیبر کے دوران نمایاں ہوئی۔ یہ لب لباب ہے روایات خیبر کا، خِتَامُهُ مِسك روایت زیر باب میں جس محصل کو آپؐ نے نصیحت فرمائی ہے اس کا نام سواد بن غزیہ ہے۔ یہ بنو عدی بن نجار کے خاندان میں سے تھے۔ جیسا کہ دار قطنی نے ذکر کیا ہے۔ ان کے علاوہ اور محصلین بھی بھیجے گئے تھے۔ خطیب بغدادی نے ابن صعصعہ محصل کا بھی ذکر کیا ہے۔ ( فتح الباری جزءے صفحہ ۶۲۱)