صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 74
۷۴ صحیح البخاری جلد ۹ ۶۴ - کتاب المغازی نئی سند ہو گی اور جیسا کہ میں بتا چکا ہوں اگر کسی روایت کا راوی اپنے ضعف حافظہ یا سقم قیاس کی وجہ سے محل اعتراض ہے تو امام بخاری نے اس کی روایت قبول نہیں کی۔تاوقتیکہ تسلی نہیں کرلی کہ قرآن مجید اور ثقہ راویوں سے اس کی تائید و تصدیق ہوتی ہے یا نہیں اور پھر تصدیق کو پایہ یقین تک پہنچانے کے لئے دور دراز کے سفروں کی مشقت و کوفت برداشت کی گئی اور راوی سے خود ملاقات کر کے اس بارے میں تحقیق و تمحیص کا حق ادا کیا گیا۔امام موصوف کے سوانح میں مذکور ہے کہ آپ کا ذہن جبکہ آپ بستر راحت پر ہوتے انہی روایات کی اُلجھنیں حل کرنے میں بیدار و مشغول رہتا اور رات بھر وہ بار بار جاگتے اور اُٹھ کر کاغذ پر اپنے خیالات کو ضبط تحریر میں لاتے رہتے اور پھر دن کی روشنی میں اس مسودہ کو صاف کرتے اور اس گہری سوچ و بچار اور مسلسل جد وجہد کا ہی یہ نتیجہ ہے جس سے آج ہم مستفید ہو رہے ہیں۔اس محنت و کاوش ذہنی کی داد ساری امت کی مخلصانہ دعائیں اور اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت ہی پورے طور پر دے سکتی ہے۔غرض اس باب کی تمام روایات ایک خاص ترتیب میں مرتب ہیں اور ان کا ایک خاص تاریخی پس منظر ہے جو اگر مد نظر نہ رکھا جائے تو روایتیں بظاہر بے جوڑ نظر آتی ہیں۔مثلاً مسیلمہ کذاب وغیرہ مرتدین کی لڑائیوں میں ایک موقع پر حضرت عمر حضرت خالد بن ولیڈ سے جو فوج کے سپہ سالار تھے سخت برہم ہوئے۔یہاں تک کہ انہوں نے حضرت ابو بکر خلیفہ وقت سے ان کی برطرفی کا مطالبہ کیا جس کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے جب سرغنہ مرتدین مالک بن نویرہ قتل ہوا تو اس کی بیوہ سے میدان جنگ ہی میں نکاح کر لیا تھا، جس کی بناء پر ان سے جواب طلبی ہوئی۔کیونکہ اسلام نے پہلے ورثاء کو موقع دیا ہے کہ وہ اپنے قیدیوں کو فدیہ دے کر انہیں آزاد کرا لیں، جیسا کہ غزوہ خیبر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس اسلامی حکم کی خود بھی پابندی فرمائی۔کسی مسلمان شخص کو اس اسلامی حکم کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔اس تعلق میں جو شخص روایات کا یہ مخصوص پس منظر مد نظر نہیں رکھتا، وہ متعلقہ روایات کو نہیں سمجھ سکتا۔اس بارے میں اسلام کی تعلیم تورات کی تعلیم سے ممتاز ہے کہ اس میں اسیران جنگ کے ساتھ بہت نرمی برتی گئی ہے اور تورات میں نہایت سختی۔مرد وزن سب اسیر بنائے جاتے اور ان سے ہر قسم کا سلوک جائز سمجھا جاتا، خواہ کوئی جنگ میں شریک ہوا ہو یا نہ ہوا ہو۔ساری دشمن قوم گردن زنی سمجھی جاتی۔(دیکھئے استثناء باب ۷: اتا۳) لیکن اسلام نے اپنے قواعد جنگ کو نرم کر دیا اور عدل و انصاف اور رحم کا سلوک کرنے کی ہدایت فرمائی۔چنانچہ حکم دیا: وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَانُ قَوْمٍ أَنْ صَدُّوكُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ أَنْ تَعْتَدُوا وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ (المائدة: ۳) یعنی ایک قوم کی (تمہارے ساتھ یہ ) عداوت کہ انہوں نے تمہیں مسجد حرام سے روکا تھا، تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کر دے کہ تم زیادتی کرو اور تم نیکی الإصابة في تمييز الصحابة، ذكر مالك بن نويرة، جزء ۵ صفحه ۵۶۰ (السيرة الحلبية، سرية خالد بن الولید رضی اللہ تعالی عنه إلى بنى جذيمة، جزء ۳ صفحه (۲۷۹)