صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 73
صحیح البخاری جلد ۹ ۷۳ ۶۴ - کتاب المغازی اس کے متعلق بھی اختلاف ہے۔بعض نے سمجھا کہ اس کا گوشت حرام ہے اور بعض نے یہ وجہ بتائی ہے کہ بار برداری کی ضرورت تھی اور انہی روایات میں اس امر کی صراحت بھی موجود ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے امور حلت و حرمت اور تقسیم غنیمت میں تقوی اللہ اور عدل و انصاف مدنظر رکھا۔اس سے امام بخاری یہ ذہن نشین کرانا چاہتے ہیں کہ کسی راوی کی توجیہ محض قیاس بھی ہو سکتی ہے۔اس لئے ہمیں عمل دیکھنا چاہیے۔اگر اکثر راوی اس امر پر متفق ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تقسیم نیمت وغیرہ میں غایت درجہ تقویٰ، عدل و انصاف اور بے نفسی سے کام لیا تو ایک راوی کی توجیہہ جس کے ساتھ دوسرے راوی نہ صرف متفق نہیں بلکہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ثابت شدہ اسوہ حسنہ کے خلاف ہے تو وہ قطعی طور پر قابل رڈ ہوگی اور روایت ۴۲۴۰ - ۴۲۴۱ میں بتایا گیا ہے کہ حضرت ابو بکر نے بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حسنہ مد نظر رکھا اور سختی سے اس کے پابند رہے۔یہاں تک کہ حضرت فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش بھی نظر انداز کی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول بہر حال مقدم رکھا۔یہ واقعہ تاریخ اسلام میں مشہور و معروف ہے اور شیعہ صاحبان بذریعہ تعزیے اسے ذہنوں میں ہر سال تازہ رکھتے ہیں۔یہ روایت کتاب الفرائض میں زیر باب قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِأُهْلِهِ آئے گی۔روایت کے الفاظ میں کسی قدر اختلاف ہے۔روایت ۴۲۳۸ اسی موقع کے عین مناسب ہے جس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حسنہ اپنی تاثیر قدسی میں نہایت گہرا تھا۔تقسیم غنیمت میں نہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اصول عدل و انصاف کو نظر انداز فرمایا، نہ آپ کے جانشینوں نے۔ایسی مقدس ذات کے متعلق یہ خیال کرنا نہایت ہی غلط خیال ہے کہ حضرت صفیہ کی خوبصورتی کی اطلاع پا کر آپ نے اُن سے شادی کی۔امام بخاری نے صحت سند کی رو سے حضرت انسؓ کی روایت قبول کی ہے۔کیونکہ سلسلہ روایت میں کوئی راوی ایسا نہیں جو دروغ گوئی سے متہم ہو۔لیکن یہ ہو سکتا ہے کہ جس بات کے متعلق قیاس کیا ہو، وہ درست نہ ہو اور اس بارے میں متعدد روایات کو پہلو بہ پہلو رکھ کر آپ یہی بات ذہن نشین کرانا چاہتے ہیں کہ حضرت صفیہ کے نکاح کے بارے میں دیگر روایات میں جو وجہ بیان کی گئی ہے وہی زیادہ درست ہے۔امام موصوف نے شروع سے آخر تک اپنے علم کلام میں یہی طریق اختیار کیا ہے کہ روایات کا موازنہ واقعات کی روشنی میں کیا ہے، جس سے ایک سمجھ دار انسان صحیح نتیجہ آسانی سے اخذ کر سکتا ہے۔جامع صحیح بخاری کا سب سے بڑا امتیاز ان کا اسلوب استدلال اور علم کلام ہے جو بظاہر خاموش ہے لیکن اپنے ساتھ پوری فصاحت و بلاغت رکھتا ہے۔ردّ و قدح، نقد و جرح و تعدیل وغیرہ کے ذریعہ سے لاکھوں روایات و مختلف اقول و خیالات فرسودہ کے طومار عظیم کی چھان بین کے بعد چند ہزار حدیثیں قبول کی ہیں جو صحت کے اعتبار سے اتنی قوی ہیں کہ آئمہ و علماء اسلام کو تسلیم کرنے کے سوا چارہ نہیں۔چنانچہ ان کے انتخاب کو اصح الکتب بعد کتاب اللہ کے نام سے موسوم کیا گیا ہے۔بظاہر دیکھنے سے یہ معلوم ہو گا کہ بعض جگہ روایات کا تکرار ہے۔لیکن اگر سند کو غور سے دیکھا جائے تو وہ ایک