صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 72
صحیح البخاری جلد ۹ النا ۷۲ ۶۴ - کتاب المغازی ادفی و اعلیٰ نہیں رہے گا۔سب با فراغت کھائیں گے۔دار قطنی نے بسند معن بن عیسی امام مالک سے حضرت عمرؓ کا قول ان الفاظ میں نقل کیا ہے: لَئِنْ بَقَيْتُ إِلَى الْحَوْلِ لَألْيَقَنَّ أَسْفَلَ النَّاسِ بِأَعْلَاهُمْ۔(فتح الباری جزءے صفحہ ۲۱۳) اگر میں ایک سال تک زندہ رہا تو ادنی لوگوں کو اعلیٰ لوگوں کے ساتھ ملادوں گا۔اس قول سے لفظ بنانا کے معنی واضح ہو جاتے ہیں اور یہ بھی معلوم ہو جاتا ہے کہ اس روایت کا نمبر ۴۲۳۴ سے کیا تعلق ہے۔ظاہر ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو پاکیزہ روح اپنے اسوہ حسنہ سے صحابہ کرام میں پیدا کی تھی، خلفاء راشدین نے اسے محفوظ رکھا اور اس کے پاکیزہ مقتضیات کے مطابق عمل کیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی غنیمت کی تقسیم میں دستور کا پاس رکھا اور اس میں مساوات کو ملحوظ رکھا۔حضرت صفیہ اپنی خاندانی وجاہت و عزت کی وجہ سے حضرت دحیہ کلبی کے حصہ میں نہیں آسکتی تھیں۔جس طرح حضرت صفیہ کو اپنے اعلی نسب خاندان سے ہونے کا احساس تھا، صحابہ کرام کو بھی علم ہونے پر اس امر کا احساس ہوا۔خود حضرت دحیہ کلبی کو بھی احساس تھا اور انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا اور وہ آزاد ہوئیں۔نہ صرف انہی کے ساتھ یہ نیک سلوک ہوا بلکہ میدانِ جنگ میں تمام عورتوں سے متعہ کرنے کی ممانعت کا اعلان کر دیا گیا تا رشتہ دار فدیہ وغیرہ دے کر انہیں آزاد کر لیں۔جیسا کہ بتایا جا چکا ہے کہ حضرت صفیہ کے رشتہ داروں میں سے کوئی زندہ باقی نہ رہا۔باپ، خاوند اور بھائی سب ایک ایک کر کے قتل ہو چکے تھے اور کوئی نہ تھا جو ان کا فدیہ ادا کرتا۔تقسیم غنیمت کے دستور کی رو سے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی اور مجاہد کو نہیں دی جاسکتی تھیں۔آپ چاہتے تو بطور حصہ انہیں لے سکتے تھے۔لیکن آپ نے ایسا نہیں کیا۔بلکہ حضرت دحیہ کلبی کو معاوضہ دے کر انہیں آزاد فرمایا اور پھر ان کی خواہش اور رضاء ورغبت سے ان کے ساتھ عقد نکاح کیا اور میدانِ جنگ سے نکل کر راستہ میں بمقام صہباء ان کا اسلامی طریق کے مطابق رخصتانہ اور ولیمہ ہوا۔لے جس سے ظاہر ہے کہ وہ آزاد ہونے پر مسلمان ہو چکی تھیں اور مرتے دم تک وفادار رہیں۔حضرت انس بن مالک کی روایت نمبر ۴۲۰۰ میں غایت درجہ اختصار ہے اور ان کی روایت نمبر ۴۲۱۱ میں جو بیان ہوا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت صفیہ کی خوبصورتی کا ذکر کیا گیا تو آپ نے انہیں اپنے لئے پسند فرمایا۔اس کی وضاحت روایت نمبر ۴۲۲۸، ۴۲۲۹، ۴۲۳۸ سے ہوتی ہے کہ خوبصورتی وغیرہ کو تقسیم غنیمت میں ملحوظ نہیں رکھا گیا۔بلکہ معین دستور و قاعدہ کے مطابق تقسیم عمل میں آئی تھی۔روایات نمبر ۴۲۱۵ تا ۷ ۴۲۲ میں گدھوں کے گوشت سے ممانعت کا ذکر ہے اور جو اس کی وجہ بیان کی گئی ہے ل ( بخارى، كتاب الأطعمة، باب الحيس، روایت نمبر ۵۴۲۵) (مسلم ، کتاب النکاح، باب فَضِيلَةِ إِعْتَاقِهِ أَمَتَهُ ثُمَّ يَتَزَوْجُهَا) (مسند احمد بن حنبل، مسند أنس بن مالك، جزء ۳ صفحه (۱۳۸)