صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 71
صحیح البخاری جلد ۹ ۶۴ - کتاب المغازی ریہ فَوَافَقْنَا جَعْفَرَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ: اس فقرہ کا مطلب یہ ہے کہ حضرت جعفر مہاجرین حبشہ میں سے تھے۔حضرت ابو موسیٰ اشعری کا قافلہ بھی اُن سے آملا اور پھر یہ دونوں قافلے جب واپس آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خیبر میں ملے۔ابن اسحاق سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمرو بن امیہ ضمری کے ذریعہ نجاشی کو کہلا بھیجا کہ حضرت جعفر بن ابی طالب اور ان کے ساتھیوں کے سفر کا انتظام کر دیا جائے تو مرحوم نجاشی نے بڑے اہتمام سے انہیں باعزت روانہ کیا۔(فتح الباری جزءرے صفحہ ۶۰۷) ابن سعد نے بھی یہی روایت نقل کی ہے۔کے فتح الباری میں ہے کہ حضرت اسماء بنت عمیں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ بعض لوگ ہم پر فخر کرتے ہیں کہ وہ مہاجرین سابقین میں سے ہیں اور ہم تو اب سبقت سے محروم رہے۔آپ نے فرمایا: بَلْ لَكُمْ هِجْرَتَانِ هَاجَرُتُمْ إِلَى أَرْضِ الْحَبَشَةِ، ثُمَّ هَاجَرْتُمْ بَعْدَ ذَلِكَ۔نہیں بلکہ تمہاری دو ہجرتیں ہیں، ایک حبشہ کی طرف اور دوسری مدینہ کی طرف۔(فتح الباری جزءے صفحہ ۶۰۸) روایت نمبر ۴۲۳۰ میں حضرت اسماء بنت عميس" کے الفاظ كُنا في أَرضِ البُعَدَاءِ البُغَضَاء بِالحَبَشَةِ، وَذَلِكَ فِي اللَّهِ وَ فِي رَسُولِهِ ال اس لحاظ سے قابل توجہ ہیں کہ وہ ایک صحابیہ خاتون کی ذہنی حالت کے آئینہ دار ہیں۔یہ حضرت جعفر بن ابی طالب کی بیوی تھیں۔بیوہ ہونے پر وہ حضرت ابو بکر کے نکاح میں آئیں۔نہایت پارسا، عبادت گزار خاتون تھیں۔روایت نمبر ۴۲۳۲ میں صحابہ کرام مردوزن کے تزکیہ نفس کا ذکر ہے جو انہیں شبینہ تلاوت قرآن مجید کی برکت سے حاصل تھی۔نہ صرف وہ بلکہ ان کے غلاموں کی ذہنیت بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیضان تربیت سے ایسی صلاحیت پذیر تھی کہ مالِ غنیمت میں سے ایک تسمہ کا بلا اجازت قبضہ میں رکھنا بھی ان کے لئے عار تھی۔یہ روایتیں اسی غرض سے منقول ہیں کہ ایسی مقدس جماعت سے متعلق یہ خیال کرنا قطعا درست نہیں کہ غزوہ خیبر میں ان کی شمولیت کسی دنیوی طمع یا لالچ سے ہوئی تھی اور یہ خیال تو کسی طرح درست نہیں ہو سکتا کہ اس تزکیہ یافتہ جماعت کے مرشد و مزگی کے لئے حضرت صفیہ بنت فی کی خوبصورتی نکاح کا محرک ہوئی ہو۔ایسا خیال دور از صداقت ہے۔آپ کی شان اس بھونڈے خیال سے بہت ہی بلند و بالا تھی۔آپ نے تو یہ گوارا بھی نہیں فرمایا کہ خلافِ شریعت ایک تسمہ بھی مالِ غنیمت سے لیا جائے۔(روایت نمبر ۴۲۳۴) اس تعلق میں دیکھئے کتاب الجہاد باب ۱۸۹، ۱۹۰۔حضرت عمر کے قول میں لفظ بنانا جو روایت نمبر ۴۲۳۵ میں ہے اس کے معنی ہیں مُتَسَاوِین۔ایک دوسرے کے مساوی۔جوہری نے حضرت عمر کا ایک قول ان الفاظ میں نقل کیا ہے۔لَئِنْ عِشْتُ لَأَجْعَلَنَّ النَّاسَ بَنَانًا وَاحِدًا، آئ بِالتَّسْوِيَّةِ - یعنی اگر میں زندہ رہا تو لوگوں کو ایک جیسا کردوں گا۔یعنی ان میں کوئی امیر غریب اور (السيرة النبوية لابن هشام، قدوم جعفر بن أبي طالب من الحبشة، جزء ۳ صفحه ۳۰۷) الطبقات الكبرى لابن سعد، غزوة رسول الله ﷺ خیبر، جزء ۲ صفحه ۸۲) الاصابة في تمييز الصحابة، أسماء بنت عمیس، جزء ۸ صفحه ۱۴ تا ۱۶)