صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 70
صحيح البخاری جلد ۹ ۶۴ - کتاب المغازی * وَقَالَ الزُّبَيْدِئُ أَخْبَرَنِي الزُّهْرِئُ۔۔۔زبیدی نے زہری کی روایت دو سندوں سے نقل کی ہے۔ایک عبید اللہ بن کعب سے بروایت عبد الرحمن بن کعب۔جو موصول ہے اور دوسری سعید اور عبید اللہ بن عبد اللہ سے جو مرسل ہے۔امام بخاری نے اپنی تاریخ میں اس کی وضاحت کی ہے۔نیز ابو نعیم نے زہری سے بیان کیا ہے کہ انہوں نے کہا: عبد اللہ اور سعید بن مسیب نے مجھے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال سے فرمایا: اُٹھو اور اعلان کرو: لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا رَجُلٌ مُؤْمِنٌ وَاللَّهُ يُؤَيْدُ هَذَا الذِيْنَ بِالرَّجُلِ الفاجِرِ۔یعنی یہ بات یاد رکھو کہ جنت میں صرف مومن ہی داخل ہو گا اور اللہ بعض دفعہ اس دین کی بدکار شخص کے ذریعہ سے بھی مدد کرتا ہے۔(فتح الباری جز رے صفحہ ۵۹۲،۵۹۱) مذکورہ بالا حوالوں کے موازنہ سے یہ ذہن نشین کرانا مقصود ہے کہ شعیب و معمر والی روایت قابل ترجیح ہے اور اس کے علاوہ دوسری روایتوں میں احتمال ہے۔امام مسلم کی ایک روایت میں حضرت بلال کی جگہ الفاظ قُم يَا ابْنَ اخطَاب ہیں اور امام بہیقی کی روایت میں ہے کہ آپ نے حضرت عبد الرحمن بن عوف کو مخاطب فرمایا تھا۔ان حوالوں سے اس اختلاف کی طرف بھی توجہ دلائی گئی ہے۔امام ابن حجر" کا خیال ہے کہ ہو سکتا ہے کہ تینوں صحابی مخاطب ہوں کہ وہ اپنی اپنی جگہ اعلان کر دیں۔( فتح الباری جزءے صفحہ ۵۹۲) روایت نمبر ۲۲۰۸ کا تعلق جامع مسجد بصرہ سے ہے کہ بعض لوگوں کو طیلسان (کنٹوپ) پہنے دیکھا جو خیبر کے یہودی اکثر پہنتے تھے۔حضرت انسٹس کو یہ لباس دیکھ کر خیبر کے یہود یاد آئے۔بصرہ آنے سے قبل انہیں ایسا دیکھنے کا اتفاق نہیں ہوا تھا۔امام ابن حجر کے نزدیک اس روایت سے طیلسان پہننے کی کراہت کا استدلال نہیں ہو سکتا جیسا کہ بعض نے کیا ہے۔(فتح الباری جزءرے صفحہ ۵۹۴) اس روایت کا ذکر ضمناً کیا گیا ہے۔روایت نمبر ۴۲۰۲ تا ۷ ۴۲۰ ایک ہی نوعیت کی روایتیں ہیں۔یعنی ان میں ایسے لوگوں کا ذکر ہے جو نفس امارہ کی خاطر لڑتے ہیں یا جو محض رضائے الہی کے لئے جہاد کرنے والے ہیں۔امام ابن حجر نے امام ابن جوزی کے حوالہ سے نقل کیا ہے کہ حضرت قتادہ بن نعمان، قزمان ظفری کے پاس سے گزرے اور اسے دادِ شجاعت دی۔تو اس نے کہا: وَاللَّهِ إِنِّي مَا قَاتَلْتُ عَلَى دِينِ وَإِنَّمَا قَاتَلْتُ عَلَى حَسَبِ قَوْمِی یعنی میں دین کے لئے نہیں لڑا بلکہ اپنی قوم کی خاطر۔یہ روایت واقدی کی ہے اور ان کی روایت اسی وقت قابل اعتماد کبھی جاتی ہے جب کسی ثقہ سے ان کی تائید ہوتی ہو۔اس کے ہم معنی دوسری مستند روایتیں موجود ہیں۔(فتح الباری جزء ے صفحہ ۵۸۹) روایت نمبر ۴۲۳۰ میں آتا ہے کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری نے یہ الفاظ کہے: إِمَّا قَالَ بِضْعُ وَإِمَّا قَالَ فِي ثَلَاثَةٍ وَخَمْسِينَ أَوِ اثْنَيْنِ وَخَمْسِينَ رَجُلًا یعنی پچاس پر کچھ زائد آدمی یا ترین یا باون آدمی۔تعداد کی کمی و بیشی ہم سفر ملازمین کو شمار یا انہیں نظر انداز کرنے کی وجہ سے ہے۔علامہ بلاذری کی روایت میں جو حضرت ابن عباس سے مروی ہے چالیس مردوں کا ذکر ہے۔ابن اسحاق کی روایت میں سولہ مرد مذکور ہیں۔(فتح الباری جزء ے صفحہ ۶۰۷)