صحیح بخاری (جلد نہم)

Page 69 of 376

صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 69

صحیح البخاری جلد ۹ ۶۹ ۶۴ - کتاب المغازی لیا اور وہ آزاد کی گئیں۔سلمہ اس کے بعد حضرت صفیہ نے اپنی رضا مندی سے شادی کی۔اس کارروائی میں آپ نے شخص نے ملک کا دستور ملحوظ رکھا اور جیسا کہ بیان کیا جا چکا ہے کہ اس تعلق قرابت سے نیک نتائج پید اہوئے۔روایت نمبر ۴۲۰۲، ۴۲۰۳ کے بیان میں اختلاف ہے۔حضرت سہل بن سعد کی روایت میں ہے کہ ایک شو جو خوب لڑا تھا اور زخموں کی شدید تکلیف برداشت نہ کر سکا۔اس نے تلوار کی نوک پیٹ میں گھونپ کر خود کشی کرلی۔حضرت ابو ہریرہ کی روایت میں ہے کہ ترکش سے تیر نکال کر اس سے اپنے آپ کو ہلاک کیا۔امام ابن حجر کے نزدیک دونوں باتیں صحیح ہو سکتی ہیں۔پہلے ایک طریق سے اپنے آپ کو ہلاک کرنا چاہا۔جب دیکھا کہ وہ کار گر نہیں ہوا تو دوسرا طریق استعمال کیا۔امام ابن جوزی نے قزمان ظفری سے متعلق واقعہ بیان کیا ہے کہ وہ غزوہ اُحد میں پیچھے رہ گیا تھا۔عورتوں کی طعنہ زنی پر وہ میدان جنگ میں گیا، گھمسان کی لڑائی میں زخمی ہوا اور زخموں کی تاب نہ لا کر اس نے تلوار کی نوک سینے میں رکھ کر خود کشی کر لی۔واقدی نے حضرت سہل بن سعد کی روایت میں مذکور واقعہ غزوہ اُحد کے متعلق نقل کیا ہے۔لیکن حضرت سہل ہجرت سے پانچ سال قبل پیدا ہوئے۔غزوہ اُحد میں ان کی عمر بمشکل دس سال ہوگی۔ابو یعلی نے بھی بسند سعید بن عبد الرحمن قاضی، ابو حازم سے حضرت سہل کی روایت نقل کی ہے۔جس میں یہ الفاظ ہیں: غَزَونَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حضرت سہل خورد سالی کی وجہ سے جنگ میں شریک نہیں ہو سکتے تھے۔(فتح الباری جزءرے صفحہ ۵۸۸، ۵۸۹) واقدی روایات نقل کرنے میں محتاط نہیں، اس لئے غزوۂ احد سے متعلق ان کی روایت نظر انداز کی گئی ہے اور مذکورہ بالا دو روایتیں یہ بتانے کے لئے نقل کی گئی ہیں کہ غزوہ خیبر معرکۃ الآراء جنگ تھی جس میں یہودیوں نے شدید مقابلہ کیا اور اس لئے محاصرہ نے طول کھینچا۔روایت نمبر ۴۲۰۳ کے آخر میں بعض حوالے قابل شرح ہیں: تَابَعَهُ مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِي : معمر نے امام زہری سے شعیب کی طرح اسی سند سے روایت کی ہے۔دیکھئے کتاب الجہاد، روایت نمبر ۳۰۶۲۔** وَقَالَ شَبِيبٌ عَنْ يُونُسَ : یعنی یونس نے معمر کی روایت کے خلاف بجائے خیبر غزوہ حنین کا ذکر کیا ہے۔اس حوالہ سے امام نسائی کی روایت کی طرف اشارہ ہے۔(فتح الباری جزءے صفحہ ۵۹۱) وَقَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ يُونُسَ عَنِ الزُّهْرِي: یعنی ابن مبارک کی روایت میں جو معنعن اور مرسل ہے، غزوہ حنین کا ذکر ہے۔جیسا کہ شبیب کی روایت میں مذکور ہے۔لیکن دونوں کی سند مختلف ہے۔تَابَعَهُ صَالِحٌ عَنِ الزُّهْرِنِ : یعنی صالح بن کیسان نے ابن المبارک کی متابعت کی ہے اور غزوہ کا نام ذکر نہیں کیا۔(فتح الباری جزءے صفحہ ۵۹۱) (مسلم، کتاب النکاح، بَابُ فَضِيلَةِ إِعْتَاقِهِ أَمَتَهُ ثُمَّ يَتَزَوَّجُهَا ) (مسند أحمد بن حنبل، مسند أنس بن مالك، جزء ۳ صفحه ۱۳۸)