صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 68
صحیح البخاری جلد ۹ ۶۸ ۶۴ - کتاب المغازی کلمات دعائیہ بھی ہیں اور پیشگوئی بھی۔یعنی چونکہ یہود خیبر جنگ کے لئے آمادہ ہیں اس لئے ان کے ساتھ لڑائی ناگزیر ہو گئی ہے۔روایت نمبر ۲۲۰۰ میں غایت درجہ اختصار ہے جس سے غلط فہمی پیدا ہوتی ہے کہ حملہ کرتے ہی یہود قتل و قید کئے گئے۔لیکن روایت نمبر ۴۲۰۹، ۴۲۱۰ سے ظاہر ہے کہ جب محاصرہ نے طول پکڑا تو حضرت علی قائد حرب مقرر کئے گئے اور ان کے ہاتھ پر فتح ہوئی۔روایت نمبر ۴۱۹۶ سے معلوم ہوتا ہے کہ مجاہدین جو خوراک اپنے ساتھ لائے تھے وہ ختم ہوگئی۔حَتَّى أَصَابَتْنَا مَخْمَصَةٌ شَدِيدَةٌ- یعنی نوبت یہاں تک پہنچی کہ ہم بھوک سے سخت نڈھال ہو گئے۔حتی کے گدھے ذبح کر کے ان کا گوشت پکانا پڑا۔(روایت نمبر ۴۱۹۹) بعض روایات میں صراحت ہے کہ محاصرہ اُنیس بیس دن رہا۔اس دوران کئی معر کے ہوئے۔روایت نمبر ۴۲۰۳ سے بھی ظاہر ہے کہ جنگ شدت کی ہوئی اور یہی بات حضرت سلمہ بن اکوع اور حضرت سہل بن سعد کی روایتوں سے بھی ثابت ہے۔(دیکھئے روایت نمبر ۴۱۹۶، ۴۲۰۲) اگر فتح جلد ہو جاتی تو صحابہ کرام کا وہ حال نہ ہوتا جو روایات نمبر ۴۲۴۳،۴۱۹۹،۴۱۹۶ میں بیان ہوا ہے۔قلعے فتح ہونے پر انہیں خوراک مہیا ہوئی جو بحصہ رسدی تقسیم کی گئی۔حضرت عائشہؓ سے مروی ہے کہ مَا شَبعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِن خُبْزِ الشَّعِيرِ وَالتَّمْرِ حَتَّى فُتِحَتْ دَارُ بَنِي قَمَّة - - یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نان جویں اور کھجور سے اس وقت تک سیر ہو کر نہیں کھایا جب تک کہ یہود بنی قمہ کے گھر فتح نہ ہو گئے۔دار بنی قمہ سے مراد یہودیوں کے قبیلے ہیں جیسا کہ اسی فتح کے تعلق میں سیرت ابن ہشام کے یہ الفاظ ہیں: فَفَتَحَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ حِصْنَ الشَّعْبِ بْنِ مُعَادٍ، وَمَا بِخَيْبَرِ حِضْنٌ كَانَ أَكْثَرَ طَعَامًا وَوَدَا مِنْہ سے یعنی صعب بن معاذ کا قلعہ فتح ہونے کے بعد مسلمانوں کو بہت خوراک اور چربی میسر آئی۔مذکورہ بالا قلعہ ان قلعوں میں سے تھا جو شدید معرکوں کے بعد سر ہوئے اور انہی معرکوں میں یہودی لڑنے والے مارے گئے اور ان کے اہل و عیال قید کئے گئے۔اس جنگ میں بعض صحابہ بھی شہید ہوئے۔غرض روایت نمبر ۴۲۰۰ کے مختصر بیان سے جو غلط فہمی پیدا ہوتی ہے، اس کا ازالہ دوسری روایتوں سے کیا گیا ہے۔صحیح مسلم نے بھی حضرت انس سے ہی روایت کی ہے کہ حضرت صفیہ بنت في حضرت دحیہ کلبی کے حصہ میں آئی تھیں اور معلوم ہونے پر کہ وہ سردار یہود کی بیٹی ہیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سات راس اونٹ دے کر انہیں خرید تاريخ الخميس الموطن السابع فى وقائع السنة السابعة من الهجرة، غزوة خيبر ، جزء ۲ صفحه ۴۸) (السيرة الحلبية، ذكر مغازيه ، غزوة خيبر، جزء۳ صفحه ۶۰) تاريخ الخميس الموطن السابع فى وقائع السنة السابعة من الهجرة، غزوة خيبر، جزء ۲ صفحه ۴۸) (السيرة النبوية لابن هشام، غزوة خیبر، بنو سهم ، جزء ۳ صفحه ۲۸۱، ۲۸۲)