صحیح بخاری (جلد نہم)

Page 67 of 376

صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 67

صحیح البخاری جلد ۹ ۶۷ ۶۴ - کتاب المغازی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْيَهُودِ فَلْيَأْتِنِي بِهِ أُنْفِذُهُ لَهُ، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ عَهْدٌ مِنْ رَّسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْيَهُودِ، فَلْيَتَجَهَّزْ لِلْجَلَاء فَأَجْلَى عُمَرُ مَنْ لَّمْ يَكُنْ عِنْدَهُ عَهْدٌ مِنْ رَّسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُم - حضرت عمرؓ نے اعلان کیا کہ جس کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معاہدہ ہو، وہ اسے میرے پاس لائے۔میں اس معاہدہ کی تعمیل کروں گا اور جس کے پاس نہیں، وہ خیبر سے چلے جانے کی تیاری کرلے۔چنانچہ جن محاربین کے ساتھ آپ کا معاہدہ نہیں تھا صرف انہی کو نکالا گیا تھا۔حضرت صفیہ کے قبیلے حسینہ و مقنا جلاوطن نہیں کئے گئے۔بلکہ بعض مستشرقین نے روایات ابن ہشام وغیرہ کی بنا پر اس خیال کا اظہار کیا ہے کہ یہ رشتہ دامادی کئی یہودی خاندانوں کے لئے باعث رحمت ہوا سے ہمارے ملک کی ذہنیت شاید یہ امر اخذ کر سکے یانہ۔لیکن یہ امر واقعہ ہے کہ عربوں واسرائیلیوں میں تعلقات قرابت عام تھے۔دونوں قومیں سامی النسل تھیں اور ایک ہی جد امجد سے تعلق رکھنے والی۔اس لئے عربوں کو جو بنی اسماعیل تھے ، بنی اسرائیل کی جو بنو اسحاق و یعقوب تھے رعایت ملحوظ تھی اور ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات مصاہرت قائم رکھنے میں عار محسوس نہیں کرتے تھے۔بعض مستشرقین نے بھی ابن ہشائم اور امام بخاری کی روایات صحیح تسلیم کی ہیں کہ یہودی قبائل خیبر کے ساتھ بعض مخصوص معاہدات تھے جن کی نگہداشت مسلمانوں نے خوبی سے رکھی۔جیسا کہ حضرت صفیہ کے خاندان سے تعلق رکھنے والے قبائل کے ساتھ جو مقنا و خیبر میں آباد تھے، حضرت عمر نے یہ معاہدات پورے طور پر ملحوظ رکھے۔چنانچہ یہودی قبائل حجاز و عرب کے علاقہ جات میں گیارھویں اور بارھویں عیسوی صدی تک آباد رہے اور پھر رفتہ رفتہ عربی قبائل میں مدغم ہو گئے۔روایت نمبر ۴۱۹۵ سے ظاہر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ خیبر کے لئے صہباء مقام کے راستے سے گئے تھے۔امام ابن حجر نے کتب مغازی کی ان روایات کی وضاحت کی ہے اور لکھا ہے کہ بعض کے نزدیک یہ غزوہ ۶ ھ میں ہوا ہے۔یہ بیان سن ہجری میں شمار کے اختلاف کی وجہ سے ہے۔دراصل اس کے لئے کوچ محرم ساتویں سال ہجری میں ہوا تھا۔(فتح الباری جزءے صفحہ ۵۷۹) روایت نمبر ۴۱۹۶ کے آخر میں قتیبہ کی روایت کا حوالہ دیا گیا ہے کہ الفاظ مَشَى بِهَا کی جگہ نَشَاً بِهَا ہیں۔روایت نمبر ۴۱۹۷ کے ضمن میں دیکھئے کتاب الجہاد، روایت نمبر ۲۹۹۱ جس میں یہ الفاظ بھی ہیں: فَلَجَنُوا إِلَى الحِصْنِ یعنی تَحَسَنُوا بِهِ۔( فتح الباری جزءے صفحہ ۵۸۴) یعنی قلعے میں داخل ہو کر انہوں نے مورچے سنبھال لئے۔یہ بتایا جا چکا ہے کہ قلعہ بند ہونا اعلان جنگ کی علامت تھی۔اسی روایت میں یہ الفاظ بھی مروی ہیں: فَرَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ وَقَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ خَرِبَتْ خَيْبَرُ۔یہ ل (السيرة النبوية لابن هشام ، عمر يجلى يهود خیبر، جزء۳ صفحه ۳۰۴) (تاريخ اليهود في بلاد العرب، الباب التاسع اجلاء اليهود عن البلاد الحجازية، صفحه ۱۸۱ تا ۱۸۴) (تاريخ اليهود في بلاد العرب، الباب التاسع اجلاء اليهود عن البلاد الحجازية، صفحہ ۱۸۶)