صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 66
صحيح البخاری جلد ۹ ۶۶ ۶۴ - کتاب المغازی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلق کریم نے قریش اور قبائل بنی اسرائیل میں ایک گہرا اثر پیدا نہیں کیا تھا؟ کون ہے جو اس صداقت کا انکار کر سکتا ہے ؟ دراصل اسی صداقت کا اثر و نتیجہ تھا کہ یہود کے بعض خاندان مدینہ میں واپس آگئے اور جگہ جگہ یہودیوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بڑھائے ہوئے دستِ شفقت سے مصافحہ کیا اور انہوں نے جزیہ کی ادائیگی پر صلح کی شرطیں قبول کیں۔جزیہ کیا تھا ؟ ملکی دفاع و حفاظت کا ٹیکس۔لفظ جزیہ کے معنی ہی بدل نقدی کے ہیں۔جو سلطنت عثمانیہ میں جنگ عظیم اول تک جاری تھا۔اسی ٹیکس کی ادائیگی پر غیر مسلم باشندہ ملک کی فوجی خدمت سے مستثنیٰ ہو جاتا تھا۔سلطنت عثمانیہ میں مسلمانوں سے بھی بعض حالات میں بدل نقدی وصول کی جاتی تھی۔غرض خیبر کا تعلق غزوات نبویہ کے تیسرے دور سے ہے جو در حقیقت صلح کا دور تھا۔اس میں اسلامی جہاد کی برکت سے امن و آزادی کا پھر یر ا دور و نزدیک تمام اطراف عرب میں لہرایا گیا تھا۔یہ امر واقعہ خود پروفیسر اسرائیل کو بھی تسلیم ہے کہ قبائل بنی اسرائیل کا سیاسی اقتدار اور اقتصادی غلبہ ان جنگوں کی وجہ سے ختم ہوا اور اس کے ساتھ ہی جدل و مناقشت اور فتنہ و فساد کی جو حالت قائم تھی وہ بھی دُور ہو گئی اور جو یہودی ارض حجاز سے چلے گئے تھے ، اُن میں سے ایک معتدبہ حصہ مدینہ میں واپس آگیا تھا۔بلکہ یہودی قبیلے عرب میں جہاں جہاں بھی تھے، مطمئن زندگی بسر کرتے تھے۔کسی کو جرات نہ تھی کہ انہیں تکلیف پہنچائے۔اس بارہ میں ان کے الفاظ یہ ہیں : وَقَدْ عَاشَ الْيَهُودُ الَّذِينَ لَمْ يَذْرَحُوا مِنَ الْحِجَازِ مُطْمَئِثِيْنَ لَا يَمَشْهُمْ أَحَدٌ بِسُوْءٍ اس تعلق میں یہ جو بیان کیا جاتا ہے کہ حضرت عمرؓ کے عہد خلافت میں یہود خیبر سے جلا وطن کئے گئے تھے ، یہ صرف وہ یہودی تھے جنہوں نے جنگ کرنے کے بعد شکست کھائی اور پھر صلح پر بطریق مزارعت اپنی جائیدادوں پر بر قرار رہنا قبول کیا۔ان کے سوا دوسرے قبائل یہود جنہوں نے جنگ نہیں کی تھی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنے معاہدہ صلح امن میں کسی قسم کا رخنہ نہیں آنے دیا بلکہ اس کے پابند رہے، وہ خیبر وغیرہ کی جائیدادوں سے نہیں نکالے گئے۔بلکہ اپنی اپنی جگہوں میں رہے اور زرعی و صنعتی و تجارتی کاروبار میں مثل دیگر باشندگان آزاد تھے اور انہیں مذہبی عقیدہ و عمل میں اسی طرح پوری آزادی حاصل تھی جس طرح ایک مسلم عرب کو۔حضرت عمر نے انہیں ان کی جائیدادوں سے نہیں نکالا۔یہ امر خود پروفیسر اسرائیل کو بھی تسلیم ہے۔اس ضمن میں ان کے الفاظ یہ ہیں: لَمْ يَتَعَرَّضُ لِيَهُودِ وَادِى الْقُرى وَتَيْمَاءَ بِسُوءٍ سے حضرت عمر نے وادی القریٰ اور تیاء کے یہودیوں سے کوئی تعرض نہیں کیا، انہیں کسی قسم کی تکلیف نہیں دی۔ابن ہشام نے اس بارے میں مفصل ذکر کیا اور لکھا ہے: فَمَنْ كَانَ عِنْدَهُ عَهْدٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ تاريخ اليهود في بلاد العرب، الباب التاسع إجلاء اليهود عن البلاد الحجازية، صفحه ۱۷۵) (تاريخ اليهود في بلاد العرب، الباب التاسع اجلاء اليهود عن البلاد الحجازية، صفحہ ۱۸۳)