صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 65
۶۵ صحیح البخاری جلد ۹ ۶۴ - کتاب المغازی ضرورت صحابہ بہتر کارکن کے طور پر میسر آسکیں۔تقویٰ و صلاحیت کے بغیر سیاسی نظم و نسق میں استقامت پیدا نہیں ہو سکتی۔اس لئے صحابہ کرام اس مقدس غرض کے لئے مخصوص کئے گئے اور زراعت و صنعت و حرفت و تجارت میں یہودیوں کا تجربہ تھا اور ان کاموں کے لئے وہ موزوں سمجھے گئے اور معاہدات صلح کے ذریعہ انہیں کاروبار کی آزادی دی گئی۔یہ توجیہہ واقعات کے مطابق ہے۔خیالی توجیہہ نہیں اور انصاف پسند اعلیٰ پایہ کے مستشرقین نے یہ توجیہہ قبول کی ہے۔ہمارے نزدیک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نقطہ نظر اس انتظامی نظریہ سے بہت بلند و بالا تھا۔آپ کے سارے کام خالصتنا روحانی اور رضائے الہی پر مبنی تھے۔آپ مزکی تھے۔تزکیہ نفس آپ کا مقصود تھا۔صحابہ کرام آپ کے رنگ میں رنگین تھے۔امام بخاری نے اس باب کی اکثر روایتوں میں یہ امر بالتکرار نمایاں کیا ہے کہ یہود نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلق کریم کو دیکھا۔کلام اللہ میں انذار و تبشیر سے متعلق جو باتیں اُن سے بیان ہوئی تھیں، وہ ان کے مشاہدے میں آگئیں۔اس لئے وہ اپنے کئے پر نادم ہوئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موافقت اختیار کرنے میں اپنا بھلا سمجھا اور وہ بے روک ٹوک اور بلا احساس خطر اپنے وطن مالوف بیشترب میں واپس آگئے۔ظاہر ہے کہ زخم خوردہ یہود کی اپنی جلاوطنی سے واپسی کوئی آسان بات نہ تھی کہ محض انصار کی احتیاج کا خیال ان پیشہ ور یہود کو وادی میثرب میں واپس لایا ہو۔اس کے معنی یہ ہوں گے کہ بنو قینقاع مہاجرین و انصار کے بڑے ہمدرد تھے جو اُن کی خاطر جہاں سے نکالے گئے ، لوٹ آئے۔پروفیسر اسرائیل کی مذکورہ بالا تو جیہہ جس قدر نا معقول ہے محتاج بیان نہیں۔اگر ان کی توجیہ درست ہو سکتی ہے تو یہ توجیہہ کیوں درست تسلیم نہ کی جائے کہ یہود آنحضرت علی علیم کے حسن سلوک سے متاثر اور اپنی غلط کاری کے بد نتائج کھل جانے پر پریشان تھے اور آپ کی فراخدلی ہی ان کے لئے بڑا محرک ہوئی کہ پر امن فضا دیکھ کر وہ اپنے وطن عزیز میں بے کھٹکے لوٹ آئے۔بعثت نبوی کا اصل مقصود فتنہ وفساد مٹانا، امن عامہ بحال کرنا اور آزادی عقیدہ و عمل قائم کرنا تھا۔جس کے لئے جان جو کچھ مصائب کا سامنا ہوا۔جب جہادِ عظیم کے ذریعہ سے گھٹاٹوپ بادل چھٹے اور اندھیرے دُور ہوئے اور اپنوں اور غیروں نے امن قائم ہوتے دیکھ لیا، ہاں جب سب نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ مشرکین قریش عرب سے متعلق پیشگوئی پوری ہوئی کہ وہ آگ بھڑ کائیں گے اور وہی آگ اُن کو کھا جائے گی۔فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِي وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ (البقرۃ: ۲۵) اور بنی اسرائیل سے کہا گیا کہ وہ اہل کتاب ہیں اور لوگوں کو وعظ و نصیحت کرتے ہیں، اپنے نفسوں کو نہ بھولیں۔شہری امن کے بارے میں جو عہد و پیمان ہو چکے ہیں اُن کی پابندی کریں۔اگر نہ کی وَاتَّقُوا يَوْمَا لَا تَجْزِي نَفْسٌ عَنْ نَّفْسٍ شيئًا (البقرة:۴۹) تو پھر اس دن سے ڈرو کہ کوئی نفس کسی نفس کے کام نہیں آئے گا۔ہاں کیوں نہ تسلیم کیا جائے کہ جب یہ نوشتہ تقدیر الہی اپنی پوری شان کے ساتھ پورا ہوا تو یہود اس کی ہیبت سے متاثر ہوئے اور اپنی غلطی پر پشیمان۔کیا کسی کو شبہ ہے کہ غزوات نبویہ میں مذکورہ بالا دونوں نوشتے پوری شان کے ساتھ پورے نہیں ہوئے ؟ اور